سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک شخص کو اپنی کاج مشین (Button hole Machine) فروخت کی، جس کا سودا ابتدائی طور پر 1,60,000 روپے میں طے پایا تھا، خریدار نے اپنی مکمل تسلی کے لیے ایک مستری کو بلوایا جس کے معائنہ کرنے اور پسند کرنے کے بعد سودا اسی قیمت پر پکا ہو گیا، تاہم میں نے از خود ہمدردی کے تحت رعایت کرتے ہوئے خریدار سے 1,53,000 روپے وصول کیے، خریدار نے رقم ادا کر کے مشین اپنے قبضے میں لے لی اور مسلسل چھ ماہ تک اسے اپنے استعمال میں رکھا۔ اب چھ ماہ کے بعد خریدار نے بنوں شہر میں کسی دوسرے مستری کو مشین دکھائی ہے جس نے اسے کہا ہے کہ یہ تو چائنا کی مشین ہے اور اس کی مالیت بمشکل 70 سے 80 ہزار روپے بنتی ہے، اس بات کو بنیاد بنا کر خریدار اب میرے پاس آیا ہے اور مشین واپس کر کے سودا ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا دونوں فریقین کی مکمل رضامندی سے سودا طے پانے اور چھ ماہ تک مشین کو باقاعدہ استعمال کرنے کے بعد خریدار کے لیے محض اس عذر کی بنا پر مشین واپس کرنا شرعاً جائز ہے؟ فقط واللہ اعلم۔ بینو وتوجروا۔
واضح رہے کہ اگر آپ نے سودا کرتے وقت خریدار کو یہ باور کرایا تھا کہ مشین کورین یا کسی اور کمپنی کی ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ چائنہ کی مشین تھی تو یہ جھوٹ اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آئے گا، ایسی صورت میں اگر خریدار کو بعد میں حقیقت معلوم ہوئی اور اس نے یہ کہہ کر مشین واپس کرنا چاہی کہ اس نے اسے کورین یا کسی اور کمپنی کی مشین سمجھ کر خریدا تھا تو خریدار کو واپسی کا حق حاصل ہوگا، نیز آپ کے لیے بھی چائنہ مشین کی مناسب مارکیٹ قیمت سے زائد رقم لینا جائز نہیں ہوگا۔ البتہ اگر سودا کرتے وقت آپ نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ مشین چائنا کی ہے، یا مشین کی کمپنی اور برانڈ کے بارے میں کوئی گفتگو ہی نہیں ہوئی تھی تو اس صورت میں محض یہ عذر کہ بعد میں کسی مستری نے اس کی کم قیمت بتائی ہے، بیع کو فسخ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ خصوصاً جبکہ خریدار نے خود مستری سے مشین کا معائنہ کروایا، مکمل اطمینان کے بعد سودا کیا، مشین اپنے قبضے میں لی اور مسلسل چھ ماہ تک استعمال بھی کرتا رہا، لہٰذا اس صورت میں خریدار یک طرفہ طور پر مشین واپس کرنے کا حق نہیں رکھتا، بلکہ بیع کو ختم کرنا دونوں فریق کی باہمی رضامندی پر موقوف ہوگا۔ اگر فروخت کنندہ راضی نہ ہو تو خریدار شرعاً مشین واپس کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
*صحيح مسلم: (رقم الحدیث:69 - (101)،ط:دار طوق النجاۃ)* عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا ». *الشامية: (4/ 587،ط:دارالفكر)* (اشترى عبدا بشرط خبزه أو كتبه) أي حرفته كذلك (فظهر بخلافه) بأن لم يوجد معه أدنى ما ينطلق عليه اسم الكتابة أو الخبز (أخذه بكل الثمن) إن شاء (أو تركه) لفوات الوصف المرغوب فيه ولو ادعى المشتري أنه ليس كذلك لم يجبر على القبض حتى يعلم ذلك وكذا سائر الحرف اختيار. *البحر الرائق: (6/ 38،ط:دارالکتاب الاسلامی)* وقواعدنا لا تأباه وضابط الغش المحرم أن يشتمل المبيع على وصف نقص لو علم به المشتري امتنع عن شرائه فكل ما كان كذلك يكون غشا وكل ما لا يكون كذلك لا يكون غشا محرما.