کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر استاد دو بچوں سے بیک وقت آیت سجدہ سنے، تو اس پر کتنے سجدے واجب ہوں گے؟
واضح رہے اگر استاد ایک ہی آیتِ سجدہ کئی بچوں سے ایک ہی مجلس میں سنے تو اس پر ایک ہی سجدہ لازم ہوگا ،اسی طرح کئی آیات سجدہ ایک مجلس میں مختلف بچوں سے سنے،تو بھی ہر آیت پر الگ سجدہ واجب ہوگا،لیکن اگر ایک ہی آیتِ سجدہ یا مختلف آیاتِ سجدہ مختلف بچوں سے مختلف مجالس میں سنے تو ہرآیت کے بدلے ایک سجدہ لازم ہوگا،جتنی آیتیں سنے گا ان کے مطابق سجدے واجب ہوں گے۔
الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 79، ط: دار احياء التراث العربي ) "ومن كرر تلاوة سجدة واحدة في مجلس واحدة أجزأته سجدة واحدة فإن قرأها في مجلسه فسجدها ثم ذهب ورجع فقرأها سجدها ثانية وإن لم يكن سجد للأولى فعليه السجدتان" فالأصل أن مبنى السجدة على التداخل دفعا للحرج وهو تداخل في السبب دون الحكم وهذا أليق بالعبادات. فتح القدير للكمال بن الهمام: (2/ 25، ط: دارالفكر) قال: الأصل أن التلاوة سبب بالإجماع؛ لأن السجدة تضاف إليها وتتكرر بتكررها، وفي السماع خلاف قيل: إنه سبب لما روينا: يعني قوله صلى الله عليه وسلم «السجدة على من سمعها» إلى آخره.