السلام علیکم! مفتی صاحب! عرض ہے کہ اگر ایک شخص پہلے ایسی ملازمت یا ذریعۂ آمدن سے وابستہ تھا جس میں آمدن مشتبہ یا غیر یقینی تھی، مثلاً بینک کی ملازمت یا فلم/سنگنگ وغیرہ سے کمائی۔ بعد میں اس نے وہ کام مکمل طور پر چھوڑ دیا، اب اس کے پاس نہ کوئی مستقل حلال ذریعۂ آمدن ہے اور نہ ہی فوری روزگار کا کوئی انتظام۔ اس شخص نے اپنی سابقہ جمع شدہ رقم (جس میں مشتبہ/حرام آمدن شامل تھی) اور ساتھ اپنی حلال رقم (مثلاً وراثت وغیرہ) کو ملا کر ایک جائز اور حلال کاروبار میں سرمایہ کاری کر دی ہے، لیکن حلال ، حرام سرمایہ کی مقدار کا اسے کوئی حساب نہیں ہے، البتہ اب وہ کاروبار مکمل طور پر شریعت کے اصولوں کے مطابق چلایا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ: اس شخص کی موجودہ کاروباری آمدن کس حد تک حلال شمار ہوگی؟ جبکہ ابتدائی سرمایہ میں حرام یا مشتبہ مال کی آمیزش موجود تھی۔ کیا ایسی آمیزش کے باوجود موجودہ کاروبار کی آمدن جائز ہو سکتی ہے؟ اگر کاروبار بذاتِ خود حلال ہو۔ اور کیا اس پر لازم ہے کہ وہ سابقہ حرام/مشتبہ مال کو الگ کر کے صدقہ کرے یا اس کی کوئی اور شرعی صورت ہو سکتی ہے؟ بینک کی نوکری اور فنکاری کو الگ الگ رکھ کر جواب دیجیے گا ۔ جزاک اللہ خیرا
واضح رہے کہ سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، ناجائز اور حرام ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، تاہم اگر بینک اسلامی ہو، یعنی سودی معاملات نہ کرتا ہو تو اس کے کسی بھی شعبہ میں ملازمت کرنا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے ۔ فلم انڈسٹری میں کام کرنا ناجائز ہے اور اس کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہے۔ اگر کسی شخص نے مجبوری کی حالت میں حرام مال سے جائز کاروبار کی ابتداء کی تو ابتدا میں جتنا حرام مال لگایا ہے، اس کے بقدر رقم اگر بغیر نیت ثواب کے صدقہ کردے تو باقی مال پاک ہوجائےگا۔
*القرأن الكريم :[البقرة:/2 278،279]* يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ، فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ وَلَاﵞ *ایضاً: [البقرة:/2 275]* وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ *صحيح مسلم: (5/ 50، رقم الحديث : 105 - (1597)، ط: دارطوق النجاة )* عن عبد الله قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله. قال: قلت: وكاتبه وشاهديه، قال: إنما نحدث بما سمعنا . *الشامية:(235/5،ط: دارالفكر)* قوله اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول.