کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مسلمان غیر مسلم مرد یا عورت چاہے ہندو ہو یا کرسچن یا اس کے علاوہ یعنی مسلمان ان کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اور ان کا جوٹھا پی سکتے ہیں یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کسی غیر مسلم کے ہاتھ، منہ یا برتن وغیرہ پر کوئی نجاست، جیسے شراب یا دوسری ناپاک چیز، لگی ہوئی نہ ہو تو اس کے ساتھ کھانا کھانا اور اس کا جوٹھا استعمال کرنا جائز ہے، بشرطیکہ کھانے پینے کی وہ اشیاء فی نفسہٖ حلال اور جائز ہوں، اس لیے کہ غیر مسلم بذاتِ خود ناپاک نہیں ہوتا، لیکن اگر اس کے جسم، کپڑوں یا استعمال کی اشیاء پر کوئی نجاست موجود ہو تو اس نجاست کی وجہ سے ناپاکی کا حکم لگے گا،البتہ بلا ضرورت یا مجبوری غیر مسلموں کے ساتھ کھانے پینے میں شرکت کرنا یا ان کے ساتھ اختلاط رکھنا، نیز ان کا جوٹھا استعمال کرنا مناسب نہیں، لہٰذا مسلمانوں کو حتیٰ الامکان اس سے احتراز کرنا چاہیے۔
*تفسير ابن كثير: (4/ 271،ط:دار ابن حزم)* وأما نجاسة بدنه فالجمهور على أنه ليس بنجس البدن والذات لأن الله تعالى أحلَّ طعام أهل الكتاب، وذهب بعض الظاهرية إلى نجاسة أبدانهم. *مراقي الفلاح: (17،ط:المکتبة العصرية)* "الأول" من الأقسام: سؤر "طاهر مطهر" بالاتفاق من غير كراهة في استعماله "وهو: ما شرب منه آدمي" ليس بفمه نجاسة لما روى مسلم عن عائشة رضي الله عنها قالت:: "كنت أشرب وأنا حائض فأناوله النبي صلى الله عليه وسلم فيضع فاه على موضع في" ولا فرق بين الكبير والصغير والمسلم والكافر والحائض والجنب وإذا تنجس فمه فشرب الماء من فوره تنجس وإن كان بعد ما تردد البزاق في فمه مرات وألقاه أو ابتلعه قبل الشرب فلا يكون سؤره نجسا عند أبي حنيفة وأبي يوسف لكنه مكروه لقول محمد بعدم طهارة النجاسة بالبزاق عنده.. *الهندية: (5/ 347،ط:دارالفکر)* قال محمد - رحمه الله تعالى - ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز ولا يكون آكلا ولا شاربا حراما وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني فأما إذا علم فأنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل ولو شرب أو أكل كان شاربا وآكلا حراما.