کھانے پینے کے آداب

ننگے سر کوئی چیز کھانے کا حکم

فتوی نمبر :
1774
آداب / آداب زندگی / کھانے پینے کے آداب

ننگے سر کوئی چیز کھانے کا حکم

ننگے سر کھانا کھانے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ادب کا تقاضا یہ ہےکہ کھانا کھانے کے دوران سر ڈھکا ہوا ہو، تاہم ننگے سر کھانا کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

*البحر الرائق:(8/ 210)*
وفي الخلاصة: والأكل مكشوف الرأس ‌والأكل ‌يوم ‌الأضحى ‌قبل ‌الصلاة فيه روايتان، والمختار أنه لا يكره.

*الشامية:(6/ 340،ط:دارالفكر)*
ولا بأس بالأكل متكئا أو ‌مكشوف ‌الرأس ‌في ‌المختار.

*الهندية:(5/ 337،ط:دارالفکر)*
لا بأس بالأكل مكشوف الرأس، وهو المختار، كذا في الخلاصة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 1774کی تصدیق کریں