مسئلہ یہ ہے کہ مسجد کی ٹینکی میں کوا گر گیا تھا ، معلوم نہیں کہ کب گرا ، مگر جب پانی نے بدبو شروع کی تو پتہ چلا کہ ٹینکی میں کوا مرگیا ہے جو بالکل خراب ہوگیا تھا اور امام صاحب نے بھی ساری نمازیں اسی پانی کی وضو سے پڑھائی ہیں
ایک اور مسئلہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ اس میں ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنے گھروں میں وضو کیا ہوا تھا، زیادہ لوگ یہاں اپنے گھروں میں وضو کیا کرتے ہیں،
اس کا حکم بتائیں؟
1)واضح رہے کہ اگر مسجد کی ٹینکی 225 اسکوائر فٹ سے کم ہو تو ایسی صورت میں کوا گر کر مرنے سے ٹینکی کا پانی ناپاک ہو جائے گا اور پورا پانی نکال کر ٹینکی کو دھونا ضروری ہوگا۔
2)اگر کوے کے گر کر مرنے کا وقت معلوم ہو تو گرنے کے وقت سے جتنی نمازیں اس پانی سے وضو کر کے پڑھی گئی ہوں، ان سب کا اعادہ لازم ہوگا اور اگر وقت معلوم نہ ہو تو پھر تفصیل یہ ہے کہ اگر کوا پھولا اور پھٹا نہ ہو تو ایک دن ایک رات کی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا۔
اور اگر کوا پھول یا پھٹ گیا ہو تو تین دن اور تین راتوں کی نمازوں کا اعادہ لازم ہوگا۔
نیز چونکہ امام صاحب نے اسی ناپاک پانی سے وضو کرکے نمازیں پڑھائی ہیں، اس لیے امام صاحب کی نماز کے ساتھ مقتدیوں کی نمازیں بھی ادا نہیں ہوئیں، اگرچہ بعض مقتدیوں نے گھروں میں پاک پانی سے وضو کیا ہو، کیونکہ مقتدی کی نماز، امام کی صحیح نماز پر موقوف ہوتی ہے،لہذا ان نمازوں کا اعادہ کرنا بھی ضروری ہے۔
*الدرالمختار: (34،ط:دارالفكر)*
(إذا وقعت نجاسة) ليست بحيوان ولو مخففة أو قطرة بول أو دم أو ذنب فأرة لم يشمع،
فلو شمع ففيه ما في الفأرة (في بئر دون القدر الكثير) على ما مر، ولا عبرة للعمق على المعتمد (أو مات فيها) أو خارجها وألقي فيها ولو فأرة يابسة على المعتمد إلا الشهيد النظيف والمسلم المغسول، أما الكافر فينجسها مطلقا، كسقط، (حيوان دموي) غير مائي لما مر (وانتفخ) أو تمعط (أو تفسخ) ولو تفسخه خارجها ثم وقع فيها.
ذكره الوالي
(ينزح كل مائها) الذي كان فيها وقت الوقوع.
*الهندية: (1/ 20،ط:دارالفكر)*
وإذا وجد في البئر فأرة أو غيرها ولا يدرى متى وقعت ولم تنتفخ أعادوا صلاة يوم وليلة إذا كانوا توضئوا منها وغسلوا كل شيء أصابه ماؤها وإن كانت قد انتفخت أو تفسخت أعادوا صلاة ثلاثة أيام ولياليها وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وقالا: ليس عليهم إعادة شيء حتى يتحققوا متى وقعت. كذا في الهداية وإن علم وقت وقوعها يعيدون الوضوء والصلاة من ذلك الوقت بالإجماع.