السلام وعلیکم ورحمۃ اللّہ وبرکاتہ
مفتی صاحب!
مسئلہ پوچھنا تھا کہ جمعہ کے دن اذان اول سے پہلے مسجد جانا لازم ہے ؟
اگر کوئی شخص خطبے سے پہلے پہنچے تو کیا وہ اذان اول سے پہلے نہ جانے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا؟
واضح رہے کہ جمعہ کے دن اذان اول کے بعد ہر ایسے کام کو ترک کرنا واجب ہے، جو مسجد میں جانے میں تاخیر کا سبب بنتا ہو ، لہذا جمعہ کی اذان اول کے بعد اذان ثانی سے پہلے مسجد پہنچنا لازمی ہے، البتہ اگر کوئی شخص اذان ثانی سے پہلے نہ پہنچے تو گناہ گار نہیں ہوگا ، تاہم فضیلت اور ثواب سے محروم ہو جائے گا ۔
*القرآن الکریم :[الجمعة62: 9]*
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ .
*الدر المختار شرح تنوير الأبصار: (ص111، ط : دارالفكر)*
(ووجب سعي إليها وترك البيع) ... (بالاذان الاول) في الاصح .
*فتح القدير للكمال بن الهمام :(2/ 68، ط : دارالفكر )*
(وإذا أذن المؤذنون الأذان الأول ترك الناس البيع والشراء وتوجهوا إلى الجمعة) لقوله تعالى فاسعوا إلى ذكرالله و ذروا البيع .