مروجہ آن لائن ٹریڈنگ کا حکم

فتوی نمبر :
176
معاملات / مالی معاوضات /

مروجہ آن لائن ٹریڈنگ کا حکم

محترم مفتی صاحب آج کل ایک کاروبار آن لائن ھو رھا ھے جسے ٹریدنگ کہتے ہیں چیزموجود نہیں ہے لیکن خرید و فروخت ہے کیا یہ جائز ہے ؟کیا اس کا آمدن جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی چیز کی خرید و فروخت کے لیے اس چیز کا موجود ہونا اور بیچنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہونا ضروری ہے، اگر چیز موجود نہ ہو یا بیچنے والے کے قبضے میں نہ ہو تو ایسی چیز کی خرید وفروخت خواہ آن لائن ہو یا آف لائن جائز نہیں۔

حوالہ جات

الهداية: (3/ 59، ط:دار احياء التراث العربي)
ومن ‌اشترى ‌شيئا ‌مما ‌ينقل ‌ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض ولأن فيه غرر انفساخ العقد على اعتبار الهلاك.

المبسوط للسرخسي: (13/ 121، ط:دارالمعرفة)
وبيع ‌ما ‌ليس ‌عند ‌الإنسان لا يجوز.

الشامية:(4/ 505، ط:دارالفكر)
وشرط المعقود عليه ستة: ‌كونه ‌موجودا ‌مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
144
فتوی نمبر 176کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --