السلام علیکم !
مسئلہ یہ ہے کہ ایک بندہ ہے مثال کے طور پر احمد ،اس کا یوٹیوب پر چینل ہے اور وہ یوٹیوب پر ویڈیوز اپلوڈ کرتا ہے تو اگر میں اس کی وہ ویڈیوز وہاں سے ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے لیے فیس بک پیج بناؤں اور فیس بک پر اس بندے کا پیج نہیں، صرف یوٹیوب پر ہے اور میں فیس بک پر اس کا فین پیج بناؤں، احمد فین پیج مطلب میں اس کا فین اور پھر اس کی یوٹیوب والی ویڈیوز اٹھا کے یہاں اپلوڈ کروں اور اس سے، میں پیسے کماؤں تو یہ پیسے کمانا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں؟
ایک تو یہ ہے کہ اکثر اس طرح لوگ جب اپنا کنٹنٹ دوسرے پیج پر دیکھتے ہیں اور وہ فین پیج ہوتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ یہ میرے فین ہیں اور میری چیزیں اپلوڈ کر رہے ہیں، وائرل کر رہے ہیں تو اس پر وہ خوش ہوتے ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اس بندے کا پیج ہے ہی نہیں، فیس بک پر اس پلیٹ فارم پر، یہ تو خالی پڑا ہوا ہے تو اس کی میں ویڈیوز وغیرہ اٹھا کے یہاں لگاتا ہوں میں نے چینل بنایا ہوا ہے تو اس سے جو میں ارننگ کر رہا ہوں پیسے کما رہا ہوں یہ جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ جو شخص یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز پر چینل بنا کر ویڈیوز یا کوئی اور مواد نشر کرتا ہے، وہ اس مواد اور اس سے متعلق تمام حقوق کا مالک ہوتا ہے،شرعی طور پر کسی کی ملکیت میں اس کی صریح یا دلالتاً اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں احمد اپنے یوٹیوب چینل اور اس پر موجود تمام مواد کا خود مالک ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی اسی کا حق ہے، چنانچہ احمد کے چینل سے کسی بھی قسم کا مواد اس کی اجازت کے بغیر لے کر کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شیئر کرنا جائز نہیں، چاہے اس کا نام ہی کیوں نہ دیا جائے اور جب مواد لینا جائز نہیں تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی جائز نہیں ہوگی۔
البتہ اگر احمد کی طرف سے صراحتاً اجازت مل جائے یا اس نے عام اجازت دے رکھی ہو تو پھر اس کے چینل سے مواد لے کر کسی بھی پلیٹ فارم پر شیئر کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی لینا جائز ہوگا۔
*مسند أحمد: (34/ 299 ،ط :مؤسسة الرسالة)*
20695 - حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: " يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم (2)؟ وفي أي بلد أنتم؟ " قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام. قال: " فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه.
ثم قال: " اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه، ألا وإن كل دم ومال ومأثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه إلى يوم القيامة،الخ
*مجلة الأحكام العدلية: (27،ط:دار الجيل)*
(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه
(المادة 97) : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.