السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ہمارے ایک ساتھی بہت زیادہ بیمار ہیں، وہ نماز پڑھنے پر قادر نہیں، یہاں تک کہ سر کے اشارے سے بھی نماز نہیں پڑھ سکتے تو اس کے لیے صرف پلکوں یا آنکھوں کے اشارے سے یا دل کے اشارے سے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت فرما دیں۔
واضح رہے کہ اگر کوئی مریض سر کے اشارے سے بھی نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، بلکہ صرف آنکھوں، پلکوں یا دل سے اشارہ کرسکتا ہو تو ایسی صورت میں اس پر نماز ادا کرنا لازم نہیں، بلکہ وہ نماز کو مؤخر کرے گا، کیونکہ شرعاً آنکھوں، پلکوں یا دل کے اشارے سے نماز معتبر نہیں، چنانچہ جو مریض سر کے اشارے سے بھی نماز ادا نہ کرسکے، وہ صرف زبان اور دل سے ذکر کرتا رہے، ایسی حالت میں اگر پانچ وقت یا اس سے کم نمازیں قضا ہوں تو صحت یابی کے بعد ان کی قضا لازم ہوگی اور اگر پانچ وقت سے زیادہ نمازیں رہ جائیں تو تندرست ہونے کے بعد ان کی قضا لازم نہیں ۔
*المعجم الاوسط للطبراني:(210/4،رقم الحديث:3997،ط: دار الحرمين)*
حدثنا علي بن سعيد الرازي قال: نا محمد بن يحيى بن فياض الزماني قال: نا حلبس بن محمد الضبعي قال: نا ابن جريج، عن عطاء، ونافع، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال: «يصلي المريض قائما، فإن نالته مشقة صلى جالسا، فإن نالته مشقة صلى نائما يومئ برأسه، فإن نالته مشقة سبح».
*الھداية:(77/1،ط:دارإحياء التراث العربى)*
فإن لم يستطع الإيماء برأسه أخرت الصلاة عنه ولا يومئ بعينيه ولا بقلبه ولا بحاجبيه «خلافا لزفر ﵀ لما روينا من قبل ولأن نصب الأبدال بالرأي ممتنع ولا قياس على الرأس لأنه يتأدى به ركن الصلاة دون العين وأختيها وقوله أخرت عنه إشارة إلى أنه لا تسقط الصلاة عنه وإن كان العجز أكثر من يوم وليلة إذا كان مفيقا هو الصحيح لأنه يفهم مضمون الخطاب بخلاف المغمى عليه.
*العناية شرح الهداية:(5/2،ط: دار الفكر)*
فإن عجز عن الإيماء برأسه أخرت عنه وقوله (لما روينا من قبل إشارة) إلى قوله ﷺ «إن قدرت أن تسجد على الأرض فاسجد، وإلا فأوم برأسك» اقتصر على الرأس في موضع البيان، ولو جاز غيره لبينه.