مفتی صاحب!
ایک شخص لندن میں رہتا ہے، اس نے سوال کیا ہے کہ صرف مسلمان جنت میں جائیں گے یا یہودی اور عیسائی بھی جنت جائیں گے ؟آج کل ایک شخص کا کلپ چل رہا ہے کہ سب جائیں گے۔
نیز رسول کی بعثت سے پہلے والے لوگوں کا کیا ہوگا ؟قرآن مجید، احادیث اور فقہاء کرام کی آرا کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔ آمین
واضح رہے کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے ایمان شرط ہے اور ایمان کے صحیح ہونے کے لیے صرف الله کو ماننا کافی نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام رسولوں کو ماننا بھی لازم ہے ، اس لیے جو شخص صرف ایک نبی کو مانتا ہو اور باقی کا یا اللہ کے بھیجے ہوئے تمام انبیاء میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرتا ہو تو وہ مؤمن نہیں ہے، اس لیے عیسائی اور یہودی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کے منکر ہیں اور ایک نبی کے علاوہ باقی انبیاء کا انکار کرتے ہیں وہ مؤمن نہیں ، کیونکہ اللہ تعالی نے قرآن میں مؤمنین کی صفات کے بارے میں فرمایا:اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(285)
ترجمہ:
رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ سب اللہ پراور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے ایمان لائے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اورانہوں نے عرض کی: اے ہمارے رب!ہم نے سنا اور مانا، (ہم پر) تیری معافی ہو اور تیری ہی طرف پھرنا ہے_
اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن میں دوسری جگہ فرمایا: وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
ترجمہ:
اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ہی راہ نجات ہے ، اسلام کے علاوہ کوئی اور راستہ نجات کا سبب نہیں بن سکتا ، لہذا غیر مسلم جنت میں داخل نہیں ہوسکتاـ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور عیسی کے درمیان زمانہ کو زمانہ فترت کہلاتا ہے اور اس زمانے میں کوئی نبی نہیں آیا ، اس لیے زمانہ فترت کے لوگوں کے بارے میں معارف القرآن میں مفتی شفیع رحمہ اللّٰہ نے آیت یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ٘-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(19) کے تحت لکھا ہے کہ آیت مذکورہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بالفرض کوئی قوم ایسی ہو کہ اُن کے پاس نہ کوئی رسول اور نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ ان کے نائبین پہنچے اور نہ پچھلے انبیاء کی شریعیت ان کے پاس محفوظ تھی تو یہ لوگ اگر شرک کے علاوہ کسی غلط کاری اور گمراہی میں مبتلا ہو جاویں تو وہ معذور سمجھے جاویں گے ۔ وہ مستحق عذاب نہیں ہوں گے۔ اسی لیے حضرات فقہا کا اہل فترت کے معاملہ میں اختلاف ہے کہ وہ بخشے جائیں گے یا نہیں ۔
جمہور کا رحجان یہ ہے کہ امید اسی کی ہے کہ وہ بخش د یے جاویں گے، جبکہ وہ اپنے اس مذہب کے پابند رہے ہوں جو غلط سلط ان کے پاس حضرت موسی یا عیسیٰ علیہا السلام کی طرف منسوب ہو کر موجو دتھا ۔ بشرطیکہ وہ توحید کے مخالف اور شرک میں مبتلا نہ ہوں ۔ کیونکہ مسئلہ توحید کسی نقل کا محتاج نہیں، وہ ہر انسان ذرا سا غور کرے تو اپنی ہی عقل سے معلوم کر سکتا ہے، لہذا معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ فترت کے لوگ اگر توحید کے قائل ہوں تو امید ہے کہ بخش دیے جائیں گےـ
*القرآن الکریم:(الآیۃ285:2)*
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ.
*ایضا:(الآیة85:3)*
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ ۚ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ.
*ایضا:(الآية19:5)*
آیت یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَكُمْ عَلٰى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِیْرٍ وَّ لَا نَذِیْرٍ٘-فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(19
*صحيح مسلم: (رقم الحديث:240،ط:دار طوق النجاة)*
240 - (153) حدثني يونس بن عبد الأعلى ، أخبرنا ابن وهب قال: وأخبرني عمرو أن أبا يونس حدثه عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: « والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني، ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار .
*معارف القرآن :(3 85،ط:مکتبۃ معارف القرآن)*
آیت مذکورہ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر بالفرض کوئی قوم ایسی ہو کہ اُن کے پاس نہ کوئی رسول اور نہ کوئی پیغمبر آیا اور نہ ان کے تائبین پہونچے ، اور نہ پچھلے انبیاء کی شریعیت ان کے پاس محفوظ تھی تو یہ لوگ اگر شرک کے علاوہ کسی غلط کاری اور گمراہی میں مبتلا ہو جاویں تو وہ معذور سمجھے جاویں گے ۔ وہ مستحق عذاب نہیں ہوں گے۔ اسی لئے حضرات فقہار کا اہل فترت کے معاملہ میں اختلاف ہے کہ وہ بخشے جاویں گے یا نہیں ۔
جمہور کا رحجان یہ ہے کہ امید اسی کی ہے کہ وہ بخش د یئے جاویں گے جبکہ وہ اپنے اس مذہب کے پابند رہے ہوں جو غلط سلط ان کے پاس حضرت موسی یا عیسیٰ علیہا السلام کی طرف منسوب ہو کر موجو دتھا ۔ بشر طیکہ وہ توحید کے مخالف اور مشرک میں مبتلا نہ ہوں ۔ کیونکہ مسئلہ توحید کسی نقل کا محتاج نہیں۔ وہ ہر انسان ذرا سا غور کرے تو اپنی ہی عقل سے معلوم کر سکتا ہے۔