کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بھائی آپس میں شریک ہیں (جوائنٹ فیملی ہے)، مگر دونوں کی موبائل کی دکانیں الگ الگ ہیں، ایک مشتری پہلے بھائی کی دکان سے قسطوں پر مہنگا موبائل خریدتا ہے، پھر وہی موبائل فوراً یا بعد میں دوسرے بھائی کی دکان پر کم قیمت میں نقد فروخت کر دیتا ہے، یہ خرید فروخت جائز ہے یا ناجائز ہے ؟
دو بھائی اگرچہ مشترکہ خاندان میں ہوں، لیکن جب دونوں کی موبائل کی دکانیں الگ الگ ہوں تو ہر دکان کا معاملہ مستقل شمار ہو گا، ایسی صورت میں اگر کوئی گاہک ایک بھائی کی دکان سے قسطوں پر موبائل خریدے اور بعد میں اپنی مرضی سے اسے دوسرے بھائی کی دکان پر کم قیمت میں نقد فروخت کر دے، بشر طیکہ پہلے سے یہ طے نہ ہو تو یہ معاملہ جائز ہے ، البتہ اگر شروع ہی سے یہ طے ہو کہ موبائل دوسرے بھائی کو واپس بیچا جائے گا، یا یہ سودی حیلہ ہو تو یہ بھی عینہ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔
*سنن أبي داؤد:(326/5،الرقم:3462، ط:دار الرسالة العلمية*
عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم
أذناب البقر، ورضيتم بالزرع، وتركتم الجهاد، سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم."
*الشامية:(326/5،ط: دارالفکر)*
أي بيع العين بالربح نسيئة ليبيعها المستعرض بأقل ليقضي دينه، اخترعه أكلة الربا، وهو مكروه مذموم شرعا لما فيه من الإعراض عن مبرة الإقراض.
(قوله: وهو مكروه أبي عند محمد، وبه جزم في الهداية. قال في الفتح: وقال أبو يوسف: لا يكره هذا البيع؛ لأنه فعله كثير
من الصحابة وحمدوا على ذلك ولم يعدوه من الربا حتى لو باع كاغدة بألف يجوز ولا يكره.
وقال محمد: هذا البيع في قلبي كامثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا.
*المغني:(134/4،ط:مكتبة القاهرة)*
وفي كل موضع قلنا: لا يجوز له أن يشترى لا يجوز ذلك لوكيله لأنه قائم مقامه، ويجوز لغيره من الناس، سواء كان أباه، أو ابنه.
أو غيرهما :لأنه غير البائع ويشترى لنفسه، فأشبه الأجنبي.
*بحوث القضايا فقهية معاصرة:(71/2،ط: دارالعلوم کراچی)*
التورق أن يشتري الرجل سلعة لمن مؤجل أكثر، ويبيعها من شخص ثالث يثمن عاجل أقل ، فيحصل على نقود ليسد بها حاجته بعض المتأخرين من الحنفية اعتبروا التورق عينة فذهبوا إلى كراهتها، ولكن المختار قول الإمام ابن الهمام تخلله إن العينة إنما تتحقق إن رجعت السلعة إلى البائع الأول، أما إذا باعها المشتري في السوق فهو جائز بلا كراهة ، لكنه خلاف الأولى، وهذا القول اختاره جمهور الحنفية.