ٹھیکیدار کا زمین آگے کسی اور کو بٹائی پر دینا

فتوی نمبر :
2030
معاملات / مالی معاوضات /

ٹھیکیدار کا زمین آگے کسی اور کو بٹائی پر دینا

مفتی صاحب !
میں نے اپنی زمین لے کر ٹھیکے پر دی، یعنی یہ طے ہوا کہ وہ شخص مجھے مثلاً چھ من (یا متعین مقدار) اناج دے گا، اب وہ ٹھیکیدار خود کاشت کرنے کے بجائے کسی اور کسان سے کاشت کروا رہا ہے اور وہ کسان مجھے بطورِ بٹائی اناج دیتا ہے، اس صورت میں کیا میرے لیے یہ بٹائی لینا شرعاً صحیح ہے یا نہیں؟
نیز اس طرح کے معاملات ہمارے علاقے میں بہت زیادہ رائج ہیں، براہِ کرم ان کا شرعی حکم بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں آپ کا زمین کو متعین مقدار(چھ من وغیرہ) کے بدلے بٹائی پر دینا جائز ہے، بشرطیکہ اس متعین مقدار کے اسی پیداوار سے ہونے کی شرط نہ لگائی جائے ۔
البتہ ٹھیکیدار کا زمین کو آگے کسی اور کسان کو بطور کرایہ یا بٹائی پر دینا مذکور شرائط کے ساتھ جائز ہے:
1)مستاجر(کرایہ دار)کسی ایسے شخص کو زمين کرایہ پر نہ دے، جس کے کام سے اِس زمين میں نقصان ہو۔
2) زمين کا کرایہ، اصل کرایہ سے زیادہ نہ لے، ورنہ زیادتی اس کے لیے حلال نہیں ہوگی، البتہ اگر دوسرا کرایہ پہلے والے کی جنس میں سے نہ ہو، مثلا پہلا کرایہ روپیہ میں ہو اور آگے کرایہ پر دیتے ہوئے کسی اور چیز پر کرایہ مقرر ہوا، یا کرایہ دار نے اس کرایہ کی زمين میں کچھ اضافی کام کرایا ہو تو ایسی صورت میں وہ پہلے کرایہ سے زیادہ پر دوسرے کو دے سکتا ہے۔

حوالہ جات

*الشامية (6/ 276،ط:دارالفكر)*
(و) ‌بشرط (‌الشركة ‌في ‌الخارج)
ثم فرع على الأخير بقوله (فتبطل إن شرط لأحدهما قفزان مسماة أو ما يخرج من موضع معين، أو رفع)بشرط (‌الشركة ‌في ‌الخارج) لاحدهما قفزان مسماة، أو ما يخرج من موضع معين، أو رفع) رب البذر (بذره أو رفع الخراج الموظف وتنصيف الباقي) بعد رفعه (بخلاف) شرط رفع (خراج المقاسمة) كثلث أو ربع (أو) شرط رفع (العشر) للارض أو لاحدهما لانه مشاع فلا يؤدي إلى قطع الشركة.

*الهندية:(4/ 425،ط:دارالفكر)*
وإذا ‌استأجر ‌دارا ‌وقبضها ‌ثم ‌آجرها ‌فإنه ‌يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة ولو زاد في الدار زيادة كما لو وتد فيها وتدا أو حفر فيها بئرا أو طينا أو أصلح أبوابها أو شيئا من حوائطها طابت له الزيادة، وأما الكنس فإنه لا يكون زيادة وله أن يؤاجرها من شاء إلا الحداد والقصار والطحان وما أشبه ذلك مما يضر بالبناء ويوهنه هكذا في السراج الوهاج..

*المحيط البرهاني:(429/7،ط:دار الكتب العلمية)*
قال محمد : وللمستأجر أن يؤاجر البيت المستأجر من غيره، فالأصل عندنا: أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به؛ وهذا لأن الإجارة لتمليك المنفعة والمستأجر في حق المنفعة قام مقام الآجر، وكما صحت الإجارة من الآجر تصح من المستأجر أيضًا فإن أجره بأكثر مما استأجره به من جنس ذلك ولم يزد في الدار شيء ولا أجر معه شيئًا آخر من ماله مما يجوز عند الإجارة عليه، لا تطيب له الزيادة عند علمائنا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 2030کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --