کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کی جماعت کی نماز چھوٹ جائے اور وہ گھر میں نماز پڑھنا چاہے تو اس کے لیے اذان اور اقامت دونوں کہنا ضروری ہے؟ یا صرف اقامت کافی ہے؟ یا دونوں ضروری نہیں ؟
براہ کرم !شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ۔
واضح رہے کہ اگر مردکی جماعت چھوٹ جائے، اور وہ گھر میں اکیلے نماز ادا کرنا چاہے ،تو اس کے لیے محلے کی مسجد کی اذان کافی ہے ،الگ سے اذان اور اقامت کہنے کی ضرورت نہیں ۔
الدرالمختار : (1/ 395، ط: دارالفكر)
(بخلاف مصل) ولو بجماعة (وفي بيته بمصر) أو قرية لها مسجد؛ فلا يكره تركهما إذ أذان الحي يكفيه .
مجمع الأنهر1/ 75):، ط: دار إحياء التراث العربي)
(وندبا) أي الأذان والإقامة معا (لهما) أي المسافر والمصلي في بيته وإنما قيدنا بقولنا معا لدفع ما يتوهم أن قوله وندبا لهما يخالف لما قبله، وهو قوله: وكره تركهما؛ لأنه لا كراهة في ترك المندوب فليتأمل (لا للنساء) ؛ لأنهما من سنن الجماعة المستحبة.