کیا فرماتے ہیں مفتی یعنی کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا ایک مرتبہ اپنے گھر والوں سے جھگڑا ہو گیا میں نے جذبات میں آ کر کہہ دیا کہ میرے اوپر سبزی کھانا حرام ہے پھر گھر والوں کی بہت اصرار پر سبزی کھالی ۔
سوال یہ ہے کہ مجھ پر کفارہ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ حلال چیز اپنے اوپر حرام کر نا ’’قسم‘‘ کے حکم میں ہے،لہذا اگر کسی نے حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کیا تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو استعمال کرے، اور اس کے استعمال کے بعدقسم کا کفارہ دے دے،لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ پر قسم کا کفارہ لازم ہے۔
القرأن الكريم : [المائدة:/5 89]
فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ .
الدرالمختار : (3/ 729، ط: دارالفكر)
(ومن حرم) أي على نفسه لأنه لو قال إن أكلت هذا الطعام فهو علي حرام فأكله لا كفارة خلاصة، واستشكله المصنف (شيئا) ولو حراما أو ملك غيره كقوله الخمر أو مال فلان علي حرام فيمين ما لم يرد الإخبار خانية (ثم فعله) بأكل أو نفقة ولو تصدق أو وهب لم يحنث بحكم العرف زيلعي (كفر) ليمينه .