کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل کے جدید دور میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے جنسی ملاپ کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، تو کیا ڈی این اے سے زنا کا جرم ثابت ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اسلامی فقہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائے
واضح رہے کہ اسلام نے زنا کے حد کو ثابت کرنے کے لیے انتہائی سخت شرائط رکھی ہے اور زنا کے ثابت ہونے کے لیے چار گواہوں کا ہونا ضروری قرار دیا ہے چونکہ ڈی این اے ٹیسٹ میں اس کی صحیح یا غلط ہونے کا شبہ رہتا ہے اور قصاص اور حدود شبہات سے ساقط ہوجاتے ہیں اس لیے زنا کے ثبوت میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ کا کوئی اعتبار نہیں،البتہ اگر ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد ملزم خود اقرار کرلے تو جرم ثابت ہوجائے گا۔
القرأن الكريم :[النساء:/4 15]
فَٱسۡتَشۡهِدُواْ عَلَيۡهِنَّ أَرۡبَعَةٗ مِّنكُمۡۖ .
السنن الكبرى للبيهقي:(8/ 414 ، رقم الحديث : 17063، ط: دار الكتب العلمية )
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، أن معاذا، وعبد الله بن مسعود، وعقبة بن عامر، رضي الله عنهم، قالوا: " إذا اشتبه الحد فادرءوه .
الدرالمختار : (4/ 7، ط: دارالفكر)
(ويثبت بشهادة أربعة) رجال (في مجلس واحد) فلو جاءوا متفرقين حدوا (ب) لفظ (الزنا لا) مجرد لفظ (الوطء والجماع) وظاهر الدرر أن ما يفيد معنى الزنا يقوم مقامه .