کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ تصویر والی شرٹ پہن کر مسجد میں باجماعت نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اس صورت میں اگر پچھلی صفوں کے لوگ کا رخ اس تصویر والے شرٹ کی طرف ہو تو ان کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ تصویر والی شرٹ پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے اور اسی طرح پچھلے صف میں کھڑے نمازیوں کی نظر اگر شرٹ پر پڑتی ہے جس میں تصویر ہے، تو ایسی صورت میں ان کی نماز بھی مکروہ ہو جائے گی۔
صحيح البخاري: (1/ 84، رقم الحديث : 374، ط: دار طوق النجاة )
عن أنس : كان قرام لعائشة، سترت به جانب بيتها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أميطي عنا قرامك هذا، فإنه لا تزال تصاويره تعرض في صلاتي.
الهندية: (1/ 107، ط: دارالفكر)
ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير .
التصحيح والترجيح على مختصر القدوري: (ص168، ط: دار الكتب العلمية)
قوله: (ويكره)، قال القاضي: "ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو عن يمينه أو يساره أو في ثوبه تصاوير، وفي البساط روايتان، والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير" .