کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں پیشے کے اعتبار سے لوہار ہوں اور لوہے کے گیٹ وغیرہ تیار کرتا ہوں۔ ایک عیسائی شخص نے مجھے گیٹ بنوانے کا آرڈر دیا، جو میں نے قبول کر لیا، لیکن اب وہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ اس گیٹ پر صلیب (Cross) بنائی جائے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ:کیا کسی میرے لیے غیر مسلم کو اس نوعیت کا گیٹ بنا کر بیچنا شرعاً جائز ہے؟
خصوصاً گیٹ پر صلیب بنانا درست ہے یا نہیں؟
اگر یہ کام ناجائز ہو تو کیا صرف صلیب بنانے سے اجتناب کرنا کافی ہوگا یا پورا آرڈر ہی منسوخ کرنا ضروری ہے؟
رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ صلیب عیسائیوں کا مذہبی شعار اور ان کے عقیدے کی علامت ہے، اس لیے ایسا گیٹ بنانا کہ جس پر صلیب ہو جائز نہیں اور نہ ہی اس کی خرید و فروخت جائز ہے، البتہ صلیب کے بغیر گیٹ بنانا اور کسی عیسائی کو بیچنا جائز ہے۔
*الشامية: (352،ط:دارالفكر)*
(ويكره) تحريما (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لانه إعانة على المعصية (وبيع ما
يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لاهل الحرب (لا) لاهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب زيلعي.
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما، وإلا فتنزيها.
نهر.»
(قوله: تحريما) بحث لصاحب البحر حيث قال: وظاهر كلامهم أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية...
*المبسوط:(24/ 46،ط:دارالمعرفة)*
وقيل هذه تماثيل كانت أصيبت في الغنيمة، فأمر معاوية رضي الله عنه ببيعها بأرض الهند ليتخذ بها الأسلحة، والكراع للغزاة، فيكون دليلا لأبي حنيفة رحمه الله في جواز بيع الصنم، والصليب ممن يعبده كما هو طريقة القياس.
وقد استعظم ذلك مسروق رحمه الله كما هو طريق الاستحسان الذي ذهب إليه أبو يوسف ومحمد رحمهما الله في كراهة ذلك ومسروق من علماء التابعين، وكان يزاحم الصحابة رضي الله عنهم في الفتوى،...»
وقد قيل: في تأويل الحديث أيضا أن تلك التماثيل كانت صغارا لا تبدو للناظر من بعد، ولا بأس باتخاذ مثل ذلك... ، فعرفنا أنه لا بأس باتخاذ ما صغر من ذلك، ولكن مسروقا رحمه الله كان يبالغ في الاحتياط، فلا يجوز اتخاذ شيء من ذلك، ولا بيعه.