کیا راستے میں ٹیلہ لگا کر کوئی چیز بیچنا جائز ہے ؟
راستہ عام مسلمانوں کا مشترکہ حق ہے، اس پر کسی فرد یا دکاندار کی ذاتی اجارہ داری قائم نہیں کی جا سکتی، دکان کے سامنے سامان رکھ کر یابیٹھ کر راستہ بند کرنا اور اس کی وجہ سے آنے جانے والوں کو تکلیف پہنچانا شرعاً ناجائز اور گناہ کا کام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا، مجبوری کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ کے حقوق بیان فرمائے، جن میں نظریں جھکانا، تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، سلام کا جواب دینا اور نیکی کا حکم و برائی سے منع کرنا شامل ہے،
لہٰذا دکانداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کاروبار میں شریعت کی پابندی کریں، راستہ کھلا رکھیں، لوگوں کی سہولت کا خیال کریں اور کسی قسم کی تکلیف یا رکاوٹ کا سبب نہ بنیں۔
*صحيح البخاري:(136/3،رقم الحديث:2465،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا معاذ بن فضالة : حدثنا أبو عمر حفص بن ميسرة ، عن زيد بن أسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: «إياكم والجلوس على الطرقات، فقالوا: ما لنا بد، إنما هي مجالسنا نتحدث فيها، قال: فإذا أبيتم إلا المجالس، فأعطوا الطريق حقها، قالوا: وما حق الطريق؟ قال: غض البصر، وكف الأذى، ورد السلام، وأمر بالمعروف، ونهي عن المنكر.»
*العقود الدرية:(263/2،ط:دار المعرفة)*
وإن كان يضر بالعامة لا يجوز إحداثه والقعود في الطريق لبيع وشراء على هذا وفي غير النافذة لا يتصرف فيه أحد بإحداث ما ذكرنا مطلقا أضر بهم أو لا إلا بإذنهم أي بإذن أهله لأن الطرق التي ليست بنافذة مملوكة لأهلها فهم شركاء ولهذا يستحقون بها الشفعة والتصرف في الملك المشترك من الوجه الذي لم يوضع له، لا يملك إلا بإذن الكل أضر بهم أو لم يضر.