روزے کی قضاء و کفارہ

قضا روزے کے لیے شوہر کی اجازت کا حکم

فتوی نمبر :
1927
عبادات / روزہ و رمضان / روزے کی قضاء و کفارہ

قضا روزے کے لیے شوہر کی اجازت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ اگر کوئی عورت قضاء روزہ رکھے اور شوہر زبردستی تڑوا دے تو کیا حکم ہے؟
اور کیا قضاء روزے میں شوہر کی اجازت ضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عورت کے لیے قضا روزہ رکھتے وقت شوہر سے اجازت لینا ضروری نہیں، وہ شوہر کی اجازت کے بغیر بھی قضا روزے رکھ سکتی ہے، قضا روزہ فرض کی ادائیگی ہے، اس لیے اس میں شوہر کی اجازت شرط نہیں ہوتی۔
اگر رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر جان بوجھ کر توڑ دیا جائے تو رمضان کی حرمت پامال ہونے کی وجہ سے قضا کے ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے، البتہ رمضان کے علاوہ دیگر دنوں میں، چاہے روزہ نفلی ہو یا قضا، اگر توڑ دیا جائے تو صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ واجب نہیں ہوتا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں عورت پر صرف قضا روزہ دوبارہ رکھنا لازم ہے، کفارہ لازم نہیں، تاہم شوہر کو چاہیے کہ روزہ رکھنے سے منع نہ کرے۔

حوالہ جات

*حاشية الطحطاوي:(641/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ولا تصوم المرأة نفلا" أما الفرض ولو عملا فلا يتوقف على رضاه لأن تركه معصية ولا طاعة لمخلوق في معصية الخالق وفي الدر ولا تصوم المرأة نفلا إلا بإذن الزوج إلا عند عدم الضرر به ولو فطرها وجب القضاء بإذنه أو بعد البينونة والله ﷾ أعلم وأستغفر الله العظيم.

*الشامية:(430/2،ط: دارالفكر)*
ولذا قال في البحر عن القنية للزوج أن يمنع زوجته عن كل ما كان الإيجاب من جهتها كالتطوع والنذر واليمين دون ما كان من جهته تعالى كقضاء رمضان وكذا العبد إلا إذا ظاهر من امرأته لا يمنعه من كفارة الظهار بالصوم لتعلق حق المرأة به.

*وأيضاً:(404/2،ط: دارالفكر)*
(قوله: لاختصاصها) أي الكفارة وهو علة للتقييد بالغيرية وبالأداء (وقوله: بهتك رمضان): أي بخرق حرمة شهر رمضان فلا تجب بإفساد قضائه أو إفساد صوم غيره؛ لأن الإفطار في رمضان أبلغ في الجناية فلا يلحق به غيره لورودها فيه على خلاف القياس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
29
فتوی نمبر 1927کی تصدیق کریں