آمدنی و مصارف

مجبوری میں رشوت دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1925
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

مجبوری میں رشوت دینے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
ایک مسئلہ پوچھنا ہے، بسا اوقات پولیس والے شک کی بنا پر کسی کو اٹھا لیتے ہیں کوئی جرم نہیں ہوتا، جیل میں ڈال لیتے ہیں، پھر پیسے مانگتے ہیں رشوت کے طور پر، کیا ایسی صورت میں ان کو رشوت دینا جائز ہے یا نہیں؟
ذرا وضاحت فرمائیں، کیونکہ اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں رشوت لینا اور رشوت دینا دونوں حرام اور کبیرہ گناہ قرار دیے گئے ہیں، رشوت معاشرے میں ناانصافی، ظلم اور حقوق کی پامالی کا سبب بنتی ہے، اس لیے اس سے مکمل اجتناب لازم ہے، البتہ اگر کوئی شخص ظلم و زیادتی سے بچنے یا اپنا جائز، ثابت شدہ حق حاصل کرنے کے لیے ناگزیر مجبوری کی حالت میں رشوت دینے پر مجبور ہو جائے تو امید ہے کہ ایسی صورت میں رشوت دینے والے پر گناہ نہیں ہوگا، کیونکہ وہ خود ظلم کا شکار ہے، تاہم رشوت لینے والا ہر حال میں گناہگار ہوگا، کیوں کہ وہ ناجائز طریقے سے مال حاصل کرتا ہے اور اس کا یہ عمل بہرحال حرام اور قابلِ مواخذہ ہے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذی: (16/3،رقم الحدیث:1338ط: دار الغرب الاسلامی)*
حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا ابن أبي ذئب ، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن ، عن أبي سلمة ، عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله ﷺ الراشي» والمرتشي.

*مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح:(2437،ط:دار الفكر)*
(وعن عبد الله بن عمرو) بالواو (قال: «لعن رسول الله ﷺالراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه.

*ردالمحتار:( (423/6،ط: دار الفکر)*
قوله إذا خاف على دينه) عبارة المجتبى لمن يخاف، وفيه أيضا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عننفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1925کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --