ایک بکری کے بدلے دو بکریاں لینا

فتوی نمبر :
1924
معاملات / مالی معاوضات /

ایک بکری کے بدلے دو بکریاں لینا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کے ایک بکری کے بدلے دو بکریاں لینا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے خرید و فروخت کے لیے واضح اصول مقرر کیے ہیں، جو چیزیں وزن یا ناپ تول کے ذریعے نہیں، بلکہ گنتی کے اعتبار سے خریدی اور بیچی جاتی ہوں، جیسے بکریاں، کپڑے، پرندے وغیرہ ان میں کمی بیشی جائز ہے، البتہ ادھار معاملہ کرنا جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک بکری کے بدلے دو بکریاں نقد طور پر بیچی جا سکتی ہیں، کیونکہ یہ چیزیں کیل یا وزن میں داخل نہیں ہوتیں۔

حوالہ جات

*موطأ مالك:(358/2،ط:مؤسسة الرسالة)*
حدثنا أبو مصعب، قال: حدثنا مالك، أنه سأل ابن شهاب عن بيع الحيوان اثنين بواحد إلى أجل، فقال: لا بأس بذلك.

*عون المعبودوحاشية ابن القيم:(149/9،ط:دار الكتب العلمية)*
قال الحافظ شمس الدين بن القيم رحمه الله وقد روى مسلم في صحيحه عن أنس أن النبي ﷺ اشترى صفية من دحية الكلبي بسبعة أرؤس وقال الشافعي أخبرنا سفيان عن بن طاووس عن أبيه عن بن عباس أنه سئل عن بعير ببعيرين قد يكون البعير خيرا من البعيرين
وقال الشافعي أخبرنا مالك عن صالح بن كيسان عن الحسن بن محمد بن علي عن علي أنه باع بعيرا له يدعى عصيفيرا بعشرين بعيرا إلى أجل وقال الشافعي أخبرنا مالك عن نافع عن بن عمر أنه باع بعيرا له بأربعة أبعرة مضمومة عليه بالربذة ثم كتب الشيخ بخطه باب في ذلك يدا بيد

*التجريد للقدوري:(2315/5،ط:دار السلام)*
أما الشرع: فروي (أنه عليه [الصلاة و] السلام نهى عن بيع الحيوان بالحيوان إلا يدًا بيد)، وروي: (أنه - ﷺ - سئل، فقيل: إنا نبيع الفرس بالأفراس، والنجيبة بالنجائب،، فقال: لا بأس به يدًا بيد)، ومعلوم أن الحيوان بالحيوان اعتبر فيه التعيين دون التقابض.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
18
فتوی نمبر 1924کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --