کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ آج کل کتنے جوڑے حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ؟
واضح رہے کہ شرعی اعتبار سے کپڑوں میں حاجت اصلیہ کے لیے کوئی خاص تعداد مقرر نہیں ،اگرچہ بعض فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ سردی اور گرمی کے موسم کے اعتبار سے تین تین کپڑے بنیادی ضرورت میں داخل ہیں اور اس سے زائد ضرورت سے خارج ۔لیکن جمہور اہلِ فتوی کے نزدیک یہ درست نہیں۔جمہور فقہائے کرام کی رائے یہ ہے کہ اسراف سے بچتے ہوئے انسان جتنے جوڑے بھی استعمال میں لائے شرعاً اس کی اجازت ہے اور یہ جوڑے استعمال میں ہونے کی وجہ سے بنیادی ضرورت کے سامان میں داخل ہوں گے ۔
الدرالمختار : (2/ 264، ط: دارالفكر)
(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد .
الهندية: (1/ 172، ط: دارالفكر)
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب.
تبيين الحقائق : (1/ 253، ط: دار الكتاب الإسلامي )
وأما كونه فارغا عن الدين، وعن حاجته الأصلية كدور السكنى وثياب البذلة، وأثاث المنازل وآلات المحترفين وكتب الفقه لأهلها فلأن المشغول بالحاجة الأصلية كالمعدوم.