لباس کے آداب و احکام

تھری پیس سوٹ مجبوری میں پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
1317
آداب / آداب زندگی / لباس کے آداب و احکام

تھری پیس سوٹ مجبوری میں پہننے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ میں حکومت پاکستان کے ایک نیم سرکاری ادارے میں بطور لیکچرار اسلامیات چھ سالوں سے کام کررہاہوں ، اب ادارے میں ایک نیا پرنسپل تعینات ہوا ہے ، جس نے سب کے لیے تھری پیس لباس لازم قرار دیا ہے ، سائل بنوری ٹاؤن کراچی کا فاضل ہے اس لیے اس لباس کو پہننے میں کافی تذبذب کا شکار ہے ، اگر مطلوبہ لباس نہ پہنے تو کافی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔
براہ کرم ! میری رہنمائی فرمائیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں بحالت مجبوری آپ تھری پیس لباس پہن سکتے ہیں مگر یہ لباس اتناچست اور تنگ نہ ہو کہ جسم کے خدوخال اور بناوٹ ظاہر ہو ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[الأعراف:/7 26]
يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسٗا يُوَٰرِي سَوۡءَٰتِكُمۡ وَرِيشٗاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡرۚ .

البيان والتحصيل:(1/ 352، ط: دار الغرب الإسلامي )
فالفرض من اللباس ‌ما ‌يستر ‌العورة منه، قال الله عز وجل: {يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ} [الأعراف: 26] ، والاختيار منه في الصلاة في المساجد بلوغ الزينة المباحة.

الشامية :(1/ 410، ط: دارالفكر)
(قوله لا يصف ما تحته) بأن لا يرى ‌منه ‌لون ‌البشرة احترازا عن الرقيق ونحو الزجاج (قوله ولا يضر التصاقه) أي بالألية مثلا، وقوله وتشكله من عطف المسبب على السبب. وعبارة شرح المنية: أما لو كان غليظا لا يرى ‌منه ‌لون ‌البشرة إلا أنه التصق بالعضو وتشكل بشكله فصار شكل العضو مرئيا فينبغي أن لا يمنع جواز الصلاة لحصول الستر. اهـ.

الموسوعة الفقهية الكويتية:(6/ 136،ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
لا يجوز ‌لبس ‌الرقيق من الثياب إذا كان يشف عن العورة، فيعلم لون الجلد من بياض أو حمرة، سواء في ذلك الرجل والمرأة ولو في بيتها، هذا إن رآها غير زوجها، لما يأتي من الأدلة، وهو بالإضافة إلى ذلك مخل بالمروءة، ولمخالفته لزي السلف.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1317کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --