لباس کے آداب و احکام

ٹوپی پہننے کا حکم

فتوی نمبر :
1870
آداب / آداب زندگی / لباس کے آداب و احکام

ٹوپی پہننے کا حکم

مفتی صاحب !
نماز میں ٹوپی پہننا امام اور مقتدی دونوں کے لیے لازم ہے یا نہیں ؟ اگر امام بغیر ٹوپی کے نمازپڑھائے توا س کا کیا حکم ہے ؟ نیز عام حالات میں ٹوپی پہننے کا کیا حکم ہے ؟ واجب ہے یا سنت موکدہ یا غیر موکدہ ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نماز کے دوران ٹوپی پہن کر سر ڈھانپنا سنت ہے۔ ٹوپی پہننے بغیر نمازپڑھنے یا پڑھانے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے ، نماز کے علاوہ عام حالات میں بھی ٹوپی پہننا سنت ہے، یہی آپ ﷺ حضرات صحابہ کرام اور صلحائے امت سے ثابت ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (1/ 641، ط: دارالفكر)
(وصلاته ‌حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل إلا إذا احتاجت لتكوير أو عمل كثير.

الهندية: (1/ 106، ط: دارالفكر)
وتكره الصلاة ‌حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. كذا في الذخيرة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
33
فتوی نمبر 1870کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --