مفتی صاحب !
نماز میں ٹوپی پہننا امام اور مقتدی دونوں کے لیے لازم ہے یا نہیں ؟ اگر امام بغیر ٹوپی کے نمازپڑھائے توا س کا کیا حکم ہے ؟ نیز عام حالات میں ٹوپی پہننے کا کیا حکم ہے ؟ واجب ہے یا سنت موکدہ یا غیر موکدہ ؟
واضح رہے کہ نماز کے دوران ٹوپی پہن کر سر ڈھانپنا سنت ہے۔ ٹوپی پہننے بغیر نمازپڑھنے یا پڑھانے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے ، نماز کے علاوہ عام حالات میں بھی ٹوپی پہننا سنت ہے، یہی آپ ﷺ حضرات صحابہ کرام اور صلحائے امت سے ثابت ہے ۔
الدرالمختار : (1/ 641، ط: دارالفكر)
(وصلاته حاسرا) أي كاشفا (رأسه للتكاسل) ولا بأس به للتذلل، وأما للإهانة بها فكفر ولو سقطت قلنسوته فإعادتها أفضل إلا إذا احتاجت لتكوير أو عمل كثير.
الهندية: (1/ 106، ط: دارالفكر)
وتكره الصلاة حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. كذا في الذخيرة.