لباس کے آداب و احکام

لباس کا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1069
آداب / آداب زندگی / لباس کے آداب و احکام

لباس کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مرد وعورت کے لیے سنت لباس کیا ہے ؟ کیا عرب ممالک میں جو لباس (لمبا کرتا ، لنگا نما) استعمال کیا جاتا ہے وہ سنت ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ لباس سے مقصود اپنے جسم کو چھپانا ہے ، لہذا ایسا لباس جو بندہ کے ستر کو اچھی طرح ڈھانپ دے ،وہی لباس جائز اور بہتر ہے ، اور جو لباس ستر کو چھپانے کے لیے کافی نہ ہو یا اس قدر چست ہو کہ بدن کے خدوخال اس میں نمایاں ہو کا استعمال جائز نہیں ۔نیز مردوں کے لیے عورتوں کے مشابہ لباس پہننا ، یا عورتوں کا مردوں کی طرح لباس پہننا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[الأعراف:/7 26]
يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ قَدۡ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكُمۡ لِبَاسٗا يُوَٰرِي سَوۡءَٰتِكُمۡ وَرِيشٗاۖ وَلِبَاسُ ٱلتَّقۡوَىٰ ذَٰلِكَ خَيۡر.
الموسوعة الفقهية: (6/ 130، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
‌منها ‌اللباس ‌شرعة منه للآدميين لتستر به عوراتهم، وليكون لهم بهذا الستر ما يزينهم ويجملهم، بدلا من قبح العري الذي كان متفشيا بينهم وشناعته مظهرا ومخبرا، وفي هذا يقول الله تبارك وتعالى: {يا بني آدم قد أنزلنا عليكم لباسا يواري سوآتكم وريشا ولباس التقوى ذلك خير.
موسوعة فقه القلوب: (2/ 2065، ط: بيت الأفكار الدولية )
وأما الملبس فيلبس ما ‌يدفع ‌الحر ‌والبرد، ويستر العورة، ويلبس في النوع والمقدار كلبسه صلى الله عليه وسلم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
58
فتوی نمبر 1069کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --