امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت کا حکم

فتوی نمبر :
1836
عبادات / نماز /

امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہونے والے کی رکعت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نماز میں لیٹ ہوا جب میں مسجد پہنچا تو امام صاحب پہلی رکعت کی رکوع میں تھے میں نے نیت باندھی اور ان کے ساتھ رکوع میں شامل ہو گیا لیکن ابھی تک میری ایک تسبیح بھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ امام صاحب رکوع سے اٹھ گئے
اب پوچھنا یہ ہے کہ میری وہ رکعت ادا ہوگی یا نہیں؟ مجھے امام صاحب کی فراغت کے بعد دوبارہ ادا کرنی پڑے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ آپ نے امام کو رکوع میں ہی پا لیا تھا تو آپ کی وہ رکعت ادا ہو گئی ہے چاہے آپ نے تسبیحات پوری پڑھی ہو یا نہ پڑھی ہو۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (1/ 495، ط: دارالفكر)
(و) اعلم أنه مما يبتنى ‌على ‌لزوم ‌المتابعة في الأركان أنه (لو رفع الإمام رأسه) من الركوع أو السجود (قبل أن يتم المأموم التسبيحات) الثلاث.

الهندية: (1/ 90، ط: دارالفكر)
ولو رفع الإمام رأسه من الركوع أو السجود ‌قبل ‌أن ‌يسبح ‌المقتدي ثلاثا الصحيح أنه يتابع الإمام. هكذا في فتاوى قاضي خان.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
29
فتوی نمبر 1836کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --