مفتیان کرام!
فرش بچے کے پیشاب سے گیلا تھا ،اس جگہ پر مکھی بیٹھ کر کپڑوں پر بیٹھی، تو کیا کپڑے ناپاک ہوگئے یا نہیں؟
ذرا اس کی رہنمائی فرمائیں جزاک اللہ خیرا۔
مکھیاں اور مچھر چونکہ ہر جگہ اڑتے پھرتے ہیں، اس لیے ان کا جسم یا کپڑوں پر بیٹھ جانا ایک عام بات ہے، صرف ان کے بیٹھنے سے کپڑے یا جسم ناپاک نہیں ہوتے، کیونکہ ان کے جسم پر لگی ہوئی نجاست بہت کم مقدار میں ہوتی ہے اور ایسی قلیل نجاست معاف ہے۔
البتہ کثرت سے بیٹھنے کی وجہ سے اتنی نجاست کپڑے یا بدن پر لگ جائے جو ہتھیلی کی گولائی سے زیادہ ہو تو اس جگہ کو دھونا ضروری ہے، لیکن عام حالات میں ان کا بیٹھنا نجاست کا سبب نہیں بنتا اور نہ ہی نماز یا پاکیزگی پر کوئی اثر ڈالتا ہے۔
*الهندية:(47/1،ط: دارالفكر)*
ذباب المستراح إذا جلس على ثوب لا يفسده إلا أن يغلب ويكثر كذا في فتاوى قاضي خان.
*المحيط البرهاني:(192/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ذباب المستراح إذا جلس على ثوب رجل فقد قيل لا بأس به؛ لأن التحرز عنه غير ممكن، وقيل: لا بأس به إذا فحش.
ذكر النوع الثاني من الفصلفي بيان مقدار النجاسة التي تمنع جواز الصلاة
يجب أن يعلم بأن القليل من النجاسة عفو عندنا، لما روي أن عمر ﵁ سئل عن قليل النجاسة في الثوب، فقال: «إذا كان مقدار ظفري هذا لا يمنع جواز الصلاة»، ولأن التحرز عن قليل النجاسة غير ممكن، فإن الذباب يغفو على النجاسة ثم يغفو على ثياب المصلي، لا بد وأن يكون (في) أجنحتهن وأرجلهن نجاسة، فجعل القليل عفوًا لمكان البلوى، وقد صح أن أكثر الصحابة كانوا يكتفون بالاستنجاء بالأحجار، وإنه لا يزيل أصل النجاسة لولا أن القليل من النجاسة عفو، وإلا لما اكتفوا به.