فاطمہ کے والد کے انتقال کے بعد ورثاء میں فاطمہ اور اس کے چچا شامل ہیں، فاطمہ کا مہر والد مرحوم کے ذمہ قرض تھا، جس کے بدلے میں فاطمہ کے حصے میں ایک قطعہ زمین آئی، مگر اس پر فاطمہ نے قبضہ نہیں کیا، بعد میں فاطمہ کے چچا نے مہر کی رقم فاطمہ کو ادا کر کے وہ زمین اپنے پاس رکھنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر فاطمہ راضی ہوگئی۔
اب اس زمین کے پڑوسی یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ فاطمہ نے زمین چچا کو دے دی ہے، لہٰذا ہمیں حقِ شفعہ حاصل ہے اور انہوں نے اس بنیاد پر شفعہ کا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔
حالانکہ فاطمہ اور چچا کے درمیان کوئی باقاعدہ بیع و شراء نہیں ہوئی، بلکہ صرف مہر کی ادائیگی کے بدلے رضامندی سے زمین چچا کے پاس رہی۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں پڑوسیوں کے شفعہ کا دعویٰ شرعاً درست ہے؟ اور انہیں حقِ شفعہ حاصل ہوگا یا نہیں؟
*تنقیح:*
محترم ! اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ فاطمہ کا مہر والد کے ذمے کیسے تھا ؟مہر تو شوہر کے ذمے ہوتا ہے۔
*جواب تنقیح :*
والد صاحب نے لیا تھا بطور ولی، مگر بیٹی کو دینے سے قبل وفات پا گئے ۔
حقِ شفعہ اسی وقت ثابت ہوتا ہے جب زمین یا مکان کی بیع (خرید و فروخت)کے ذریعے ملکیت منتقل ہو، اگر زمین کسی کو ہدیہ، وراثت یا حق مہر کے طور پر دی جائے تو اس صورت میں حقِ شفعہ حاصل نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بیع نہیں، بلکہ بلا عوض یا غیر تجارتی انتقالِ ملکیت ہے جس میں شفعہ کا حق نہیں ہوتا ۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ فاطمہ نے اپنی زمین اپنے چچا سے پیسے لےکر ان کو دی ہے تو یہ بیع (خریدوفروخت)ہی کی ایک صورت ہے،اس لیےاس زمین میں پڑوسیوں کو شفعہ کا حق حاصل ہوگا ۔
*العناية شرح الهداية:(477/9،ط:دار الفكر)*
قال (والشفعة تجب بعقد البيع) وهو يوهم أن الباء للسببية فيكون سببها العقد وليس كذلك (لأن سببها الاتصال على ما بينا) يعني في قوله ولنا أنهم استووا في سبب الاستحقاق وهو الاتصال، وهذا قول عامة المشايخ لأنها إنما تجب لدفع ضرر الدخيل عن الأصيل لسوء المعاملة والمعاشرة، والضرر إنما يتحقق باتصال ملك البائع بملك الشفع، ولهذا قلنا بثبوتها للشريك في حقوق المبيع وللجار لتحقيق ذلك.
*البحر الرائق:(145/8،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
معناه تجب الشفعة بعقد البيع أي بعده؛ لأنه سبب له؛ لأن السبب هو الاتصال على ما بيناه وأورد عليه أن مجيء الباء بمعنى بعد لم يذكر في مشاهير كتب العربية فالأظهر أن تكون الباء للمصاحبة والمقارنة، فإنه كثير مذكور في كتب العربية قال في العناية لو كان السبب هو الاتصال لجاز تسليمها قبل البيع لوجوده بعد السبب كالإبراء بعد وجود الدين وأجيب بأن البيع شرط ولا وجود للمشروط بعده ورد بأنه لا اعتبار لوجود الشرط بعد تحقق السبب.
*تكملة فتح القدير:(379/9،ط:دار الفكر)*
قوله والشفعة تجب بعقد البيع ومعناه بعده) أقول كون معناه بعده محل كلام من حيث العربية، فإن مجيء الباء بمعنى بعد لم يذكر في مشاهير كتب العربية، فالأظهر أن تكون الباء في قوله تجب بعقد البيع بمعنى مع للمصاحبة والمقارنة، فإنه كثير شائع مذكور في عامة معتبرات كتب الأدب، والمعنى المقصود هاهنا يحصل به أيضا بلا كلفة كما لا يخفى على الفطن المتأمل، فلا مقتضى للعدول عنه.