کیا کوئی عالم یا مفتی کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے سکتا ہے؟

فتوی نمبر :
1745
عقائد / /

کیا کوئی عالم یا مفتی کسی مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے سکتا ہے؟

السلام علیکم!
کیا کوئی عالم، مفتی یا مدرسہ کسی دوسرے انسان کو دائرۂ اسلام سے خارج کرسکتا ہے؟ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی مسلمان کو کافر یا کافر کو مسلمان کہنا دونوں جانب سے نہایت ہی سخت معاملہ ہے۔ قرآن کریم نے دونوں صورتوں پر شدید نکیر فرمائی ہے۔ مسلمان کو کافر کہنے کے متعلق ارشاد ہے : ترجمہ:’’اے ایمان والو ! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو، اور جو شخص تم کو سلام کرے تو دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرنے کی خواہش میں اس کو یہ نہ کہو کہ : تم مومن نہیں ہو۔ کیونکہ اللہ کے پاس مال غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا، لہذا تحقیق سے کام لو، بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سب سے پوری طرح باخبر ہے۔‘‘(سورة النساء:94)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:’’اگر کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی سے کہے: اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک پر یہ (کلمۂ کفر) لوٹ آتا ہے۔‘‘(صحیح البخاری،حدیث نمبر: 6104)یعنی اگر وہ شخص واقعۃً کافر نہیں ہے تو یہ گناہ کہنے والے پر واپس آجاتا ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان پربغیرکسی شرعی دلیل کے کافرہونے کاحکم لگانا،اس کوکھیل بنالیناسخت گناہ اورحرام ہے،ایمان کے لیے بھی خطرناک ہے،اس سے آدمی کااپنادین وایمان سلامت نہیں رہتا،لہذا دوسرے مسلمانوں پرکفرکاحکم لگانے والے شخص کواپنے دین وایمان کی فکرکرنی چاہیے۔

نیز واضح رہے کہ کوئی بھی عالم یا مفتی کاکام کسی کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنا نہیں،بلکہ اس کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ شریعت کی روشنی میں حکمِ شرعی کی وضاحت کرےیعنی اگر کوئی شخص ایسا قول یا عمل کرتا ہے جو کفر صریح ہو،جیسے قرآن یا نبی ﷺ کی توہین، اللہ کی ذات کا انکار، یا دین کے کسی یقینی حکم کا انکار تو مفتی صرف یہ بتاتا ہے کہ یہ بات یا یہ عمل کفر ہے۔
مزید تفصیل کے لیے حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ کے رسالے نے ”تکفیر کے اصول“کا مطالعہ فرمالیں۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(النساء4: 94)*
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ فَتَبَيَّنُواْ وَلَا تَقُولُواْ لِمَنۡ أَلۡقَىٰٓ إِلَيۡكُمُ ٱلسَّلَٰمَ لَسۡتَ مُؤۡمِنٗا تَبۡتَغُونَ عَرَضَ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا فَعِندَ ٱللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٞۚ كَذَٰلِكَ كُنتُم مِّن قَبۡلُ فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡكُمۡ فَتَبَيَّنُوٓاْۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا .

*صحيح البخاري:(8/ 26،رقم الحدیث:6104،ط:دارطوق النجاة)*
حدثنا إسماعيل قال: حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:أيما رجل قال لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما.

*إكمال المعلم بفوائد مسلم للقاضي عياض:(3/ 612،ط:دار الوفاء)*
إدخال ‌كافر فى الملة أو إخراج مسلم منها عظيم فى الدين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
21
فتوی نمبر 1745کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 149