معاملات / مالی معاوضات /

قرض خواہ کا مقروض سے کوئی چیز خریدنے کا حکم

فتوی نمبر : 1735 0000-00-00 161 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

حضرت! ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے: تقریباً ایک سال پہلے میرے ایک عزیز نے مجھ سے قرض لیا تھا جو ابھی تک ادا نہیں کیا۔ حال ہی میں انہوں نے تین عدد لیپ ٹاپ (کمپیوٹر) منگوائے ہیں، اور چونکہ مجھے بھی لیپ ٹاپ کی ضرورت تھی جس کا انہیں علم ہے تو وہ کہنے لگے کہ ان میں سے ایک لیپ ٹاپ آپ کے لیے رکھ رہا ہوں، میں نے انہیں یہ بھی بتا دیا کہ اس وقت میرے پاس رقم موجود نہیں ہے، جبکہ وہ ابھی تک میرا قرض بھی ادا نہیں کر سکے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں ان سے لیپ ٹاپ لینا کہیں سود کے زمرے میں تو نہیں آئے گا؟ اور کیا میرے لیے ان سے یہ لیپ ٹاپ لینا درست ہے؟ جبکہ وہ میرا قرض دار بھی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مقروض کا قرض خواہ سے کوئی چیز خریدنا جائز ہے، بشرطیکہ خرید وفروخت مارکیٹ ریٹ پر کی جائے، اگر قرض دینے والےکی طرف سے ریٹ ایسا دیا جائے جو مارکیٹ ریٹ سے کم ہو تو یہ قرض پر نفع حاصل کرنا ہوگا جو کہ جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنے قرض کے بدلہ میں مقروض سے لیپ ٹاپ خریدنا درست ہے، طریقہ اس کا یہ ہوگا باہمی رضامندی سے لیپ ٹاپ کی قیمت مقرر کر کے آپ اس طے شدہ قیمت پر اس قرض دار سے لیپ ٹاپ خرید لیں اور پھر اس طے شدہ قیمت کے بقدر قرض سے منہا کر دیں، منہا کرنے کے بعد اگر مزید قیمت باقی بچے تو آپ اتنی قیمت ادا کر دیں اور اگر قرضہ باقی بچا ہو تو وہ وصول کرلیں۔

*الشامية: (5/ 166،ط:دارالفكر)* وفي الأشباه ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن (قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا ‌حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن. *الدر المختار مع ردلامختار:(3/480)* "(وكذا يبر بالبيع) ونحوه مما تحصل المقاصة فيه (به) أي بالدين؛ لأن الديون تقضى بأمثالها. (قوله: وكذا يبر بالبيع) أي وإن لم يقبض لأن البر وقضاء الدين يحصل بمجرد البيع، حتى لو هلك المبيع قبل قبضه انفسخ البيع وعاد الدين ولاينتقض البر في اليمين وإنما نص محمد على القبض ليتقرر الدين على رب الدين؛ لاحتمال سقوط الثمن بهلاك المبيع قبل قبضه ... (قوله: لأن الديون تقضى بأمثالها) قال في الفتح: لأن قضاء الدين لو وقع بالدراهم كان بطريق المقاصة، وهو أن يثبت في ذمة القابض وهو الدائن مضموناً عليه؛ لأنه قبضه لنفسه ليتملكه، وللدائن مثله على المقبض فيلتقيان قصاصاً وكذا هنا". *أيضاً:(5/265)* "(و) صح (بيع من عليه عشرة دراهم) دين (ممن هي له) أي من دائنه فصح بيعه منه (ديناراً بها) اتفاقاً، وتقع المقاصة بنفس العقد إذ لا ربا في دين سقط (أو) بيعه (بعشرة مطلقة) عن التقييد بدين عليه (إن دفع) البائع (الدينار) للمشتري (وتقاصا العشرة) الثمن (بالعشرة) الدين أيضاً استحساناً. وكان الأوضح والأخصر للمصنف أن يقول: وصح بيع دينار بعشرة عليه أو مطلقة ممن هي له. (قوله: وتقع المقاصة بنفس العقد) أي بلا توقف على إرادتهما لها، بخلاف المسألة الآتية، ووجه الجواز أنه جعل ثمنه دراهم لايجب قبضها ولا تعيينها بالقبض وذلك جائز إجماعاً؛ لأن التعيين للاحتراز عن الربا أي ربا النسيئة ولا ربا في دين سقط إنما الربا في دين يقع الخطر في عاقبته؛ ولذا لو تصارفان دراهم دينا بدنانير دينا صح لفوات الخطر. (قوله: إن دفع البائع الدينار) قيد في الصورتين ط عن مكي. (قوله: وتقاصا العشرة) قيد في الثانية فقط نهر. (قوله: بالعشرة الدين استحساناً) والقياس أن لايجوز، وهو قول زفر؛ لكونه استبدالاً ببدل الصرف قبل قبضه، وجه الاستحسان أنه بالتقابض انفسخ العقد الأول وانعقد صرف آخر مضاف إلى الدين؛ لأنهما لما غيرا موجب العقد فقد فسخاه إلى آخر ما اقتضاه، كما لو جدد البيع بأكثر من الثمن الأول، كذا قالوا، وتمامه في النهر، وأطلق في العشرة الدين فشمل ما إذا كانت عليه قبل عقد الصرف أو حدثت بعده في الأصح، فإذا استقرض بائع الدينار عشرة من المشتري أو غصب منه فقد صار قصاصاً ولايحتاج إلى التراضي؛ لأنه قد وجد منه القبص بحر ملخصاً، ولايخفى أن هذا خاص بالصورة الثانية، إذ في المقيدة لايتصور أن يكون الدين حادثاً؛ لأن فرضها أن يبيع الدينار بعشرة عليه، فما في النهر من ذكر ذلك في الأولى سبق قلم، فتنبه. ثم قال البحر: والحاصل أن الدين إذا حدث بعد الصرف، فإن كان بقرض أو غصب وقعت المقاصة وإن لم يتقاصا وإن حدث بالشراء بأن باع مشتري الدينار من بائع الدينار ثوباً بعشرة إن لم يجعلاه قصاصاً لايصير قصاصاً باتفاق الروايات، وإن جعلاه ففيه روايتان، ذخيرة".
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
ناپاک پانی کو گھر کی تعمیر میں استعمال کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
احمد اللہ،محمد نبی،فضل نبی اورفضل طارق نام رکھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عصر کے بعد ناخن کاٹنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بینک کے لیے سوفٹ ویئر بنانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
چھپکلی کے ٹینکی میں گر کر مرنے سے پانی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تصویر والے کمرے میں نماز کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
زندگی میں اپنی قبر کے لیے جگہ خرید کر مختص کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قعدہ اخیرہ میں ایک سے زائد دعائیں پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
حاملہ عورت کا میت کے گھر جانا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
*کیا ماہِ محرم کی فضیلت حضرت حسین کی شہادت کی وجہ سے ہے؟*
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مسافر مقتدی کا مسافر امام کے پیچھے چار رکعت نماز کی نیت کرنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
قاعدۂ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کوئلے پر تیمم کرنےکاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شیطان کو گالی دینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
نماز کے سجدے میں سجدۂ تلاوت کی نیت کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اقالہ کی وضاحت
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
شوہرکےوفات کےبعدشوہرکی تصویردیکھنےکاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
مقیم کی مسافر امام کی اقتداء کرنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بے دھیانی میں آیتِ سجدہ سننے کاحکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عذر کی بنا پر عصر کی نماز مثل اول کے بعد پڑھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
کرایہ دار کا دکان آگے کسی اور کو کرایہ پر دینے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
پانی کے نقصان دہ ہونے کی صورت میں تیمم کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اہل بیت کے واسطہ سے دعا مانگنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
تراویح میں درود اور تشہد پڑھنے کا حکم