فاسق شخص کی امامت اور امام سے بغض رکھنے والے کی امام کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
1730
عبادات / نماز /

فاسق شخص کی امامت اور امام سے بغض رکھنے والے کی امام کے پیچھے نماز کا حکم

مفتی صاحب
عرض ہے کہ ہماری کمپنی میں مسجد کے لیے ایک امام صاحب مقرر کیے گئے ہیں، لیکن ان کا لہجہ درست نہیں، وہ کبھی لوگوں کے درمیان لڑائی کرواتے ہیں، گالی گلوچ کرتے ہیں، اور بعض اوقات چوری کے موبائل قسطوں پر آگے بیچتے ہیں، نیز وہ نہ حافظ ہیں اور نہ عالم سوال یہ ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اور اگر کمپنی کے معاملات میں کسی ملازم کی امام صاحب سے لڑائی ہو جائے، اور اس وجہ سے اس کے دل میں امام کے لیے بغض ہو تو کیا اس صورت میں اس کی نماز اس امام کے پیچھے درست ہوگی؟ نیز ایسی حالت میں ایسے شخص کو امام مقرر کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر واقعتا یہ عادات مذکور شخص میں پائی جاتی ہیں تو یہ شخص فاسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہِ تحریمی ہے، فاسق شخص سے دینی امور میں احتیاط کی توقع نہیں ہوتی، تاہم اگر اس کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے تو وہ ادا ہو جاتی ہے، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں، بہتر یہ ہے کہ باعمل اور صالح عالم کی اقتدا کی جائے ۔
اگر کوئی شخص امام سے ناراض ہو اور ناراضگی کسی دینی وجہ سے ہو، جیسے امام فاسق ہو ،عقیدے میں خرابی پائی جاتی ہو، یا سنتوں کی پابندی نہ کرتا ہو تو ایسے امام کی امامت مکروہ شمار ہوتی ہے، لیکن اگر ناراضگی دنیاوی دشمنی، ذاتی رنجش یا نفسانی باتوں کی وجہ سے ہو تو ایسی صورت میں امام کی امامت درست ہے، بلکہ بے وجہ ناراض ہونے والے مقتدی قابلِ ملامت ہیں،البتہ ہر صورت میں خواہ ناراضگی دینی ہو یا دنیاوی اس امام کے پیچھے پڑھی گئی نمازیں صحیح ہیں اور ان کا اعادہ لازم نہیں، پوچھی گئی صورت میں چونکہ امام سے ناراضگی کی وجہ کمپنی کے معاملات ہیں،لہذا اس وجہ سے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنا مناسب نہیں ۔

حوالہ جات

*الأشباه والنظائر : (ص:93-94،ط: دار الكتب العلمية)*
‌‌القاعدة الثانية: إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام... ومنها: لو اختلط ودك ‌الميتة ‌بالزيت ونحوه لم يؤكل إلا عند الضرورة.

*الدر المختار:(77/1،ط: دارالكتب العلمية)*
(ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ولو معتقا قهستاني.عن الخلاصة،ولعله لما قدمناه من تقدم الحر الاصلي، إذ الكراهة تنزيهية فتنبه (وأعرابي) ومثله تركمان وأكراد وعامي (وفاسق وأعمى) ونحوه الاعشى.نهر (إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى (ومبتدع) أي صاحب بدعة.

*الشامية:(560/1،ط: دارالفكر)*
وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا.

*الهندية:(84/1،ط: دارالفكر)*
ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة.

*وأيضاً:(87/1،ط: دارالفكر)*
أم قوما وهم له كارهون إن كانت الكراهة لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة يكره له ذلك وإن كان هو أحق بالإمامة لا يكره. هكذا في المحيط.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
27
فتوی نمبر 1730کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --