عام آدمی کے لیے دوسرے مسلک والوں کی کتابیں پڑھنا

فتوی نمبر :
1722
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

عام آدمی کے لیے دوسرے مسلک والوں کی کتابیں پڑھنا

ایک دیوبندی غیر عالِم شخص کے لیے غیر مقلدین کی تفاسیر دیکھنا کیسا ہے؟اور وہ یہ کہتا ہے کہ ’’وہ میرے عقیدے کو خراب نہیں کر سکتے‘‘ تو اس کے لیے ایسی کتابوں کا دیکھنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کہ جب تک کسی شخص کے اپنے عقائد درست اور مضبوط نہ ہوں، احکامِ شرع کا پختہ علم نہ رکھتا ہو اور حق و باطل، میں تمییز کرنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، تب تک اس کے لیے غیر مستند یا گمراہ کن تفسیروں کا مطالعہ یا ان کا سننا مناسب نہیں، بلکہ خطرناک ہے، ایسے شخص کے لیے بہتر اور محفوظ راستہ یہ ہے کہ وہ صرف اہلِ حق مستند علماء اور اہلِ دل کی لکھی ہوئی تفسیروں سے رہنمائی حاصل کرے، تاکہ وہ گمراہی اور فتنہ سے محفوظ رہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(نحل:43:16)*
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ فَسْـَٔلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

*تفسیرروح المعانی:(122/3،ط: دارالکتب العلمیة)*
استدل بھا ایضاً علی وجوب المراجعۃ للعلماء فیما لایعلم.

*شرح عقود رسم المفتي:(17،ط: كراتشي)*
وقد رأیت فی فتاوی العلامة ابن حجر سئل في شخص یقرأ ویطالع في الکتب الفقھیة بنفسہ ، ولم یکن لہ شیخ ویفتي ویعتمد علی مطالعتہ فی الکتب ، فہل یجوز لہ ذلک أم لا، فأجاب بقولہ: لایجوز لہ الإفتاء بوجہ من الوجوہ لانہ عامی جاھل لایدری مایقول بل الذی یاخذ العلم عن المشائخ المعتبرین لایجوز لہ ان یفتی من کتاب و لا من کتابین بل قال النووی رحمۃ اللہ علیہ ولا من عشرۃ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
24
فتوی نمبر 1722کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --