شک سے وضو کا حکم

فتوی نمبر :
1714
طہارت و نجاست / طہارت /

شک سے وضو کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جب وضو کر کے نماز ادا کرتا ہوں تو میں اگلی نماز بھی اس وضو سے ادا کرنا چاہتا ہوں، لیکن مجھے وہم ہوتا ہے کہ وضو نہیں رہا تو کیا اس صورت میں مجھے تازہ وضو کرنا چاہیے یا وہم کے باوجود اس وضو سے اگلی نماز ادا کر لینی چاہیے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب تک وضو ٹوٹنے کا یقین نہ ہو تو محض شک کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا، بار بار شک میں پڑنا شیطانی وسوسہ ہے، جس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیے، لہٰذا ایسے شخص کو ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ اسی وضو سے نماز پڑھ سکتے ہیں، تاہم ہر فرض نماز کے لیے نیا وضو کرنا مستحب ہے ۔

حوالہ جات

*المحيط البرهاني:(76/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ومن شك في الحدث، فهو على وضوئه، لأنه على يقين من الطهارة، وعلى شك من الحدث واليقين لا يزال بالشك بالشك.

*المبسوط للسرخسي:(86/1،ط:دار المعرفة)*
قال (ومن شك في الحدث فهو على وضوئه، وإن كان محدثا فشك في الوضوء فهو على حدثه؛ لأن الشك لا يعارض اليقين، وما تيقن به لا يرتفع بالشك)، وعن محمد - رحمه الله تعالى - قال المتوضئ إذا تذكر أنه دخل الخلاء لقضاء الحاجة، وشك أنه خرج قبل أن يقضيها، أو بعد ما قضاها فعليه أن يتوضأ؛ لأن الظاهر من حاله أنه ما خرج إلا بعد قضائها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
24
فتوی نمبر 1714کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --