السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتیانِ کرام!
ایک قبر ہے والد کی، کچھ عرصے بعد اس کے بیٹے کا انتقال ہوگیا، اب اس قبر میں اس کے بیٹے کو دفنا سکتے ہیں یا نہیں؟
اگر کوئی قبر اتنی پرانی ہو کہ غالب گمان ہو جائے کہ پہلی میت مٹی بن چکی ہے تو ضرورت کے وقت اس میں دوسری میت کو دفن کرنا جائز ہے اور اگر کھدائی کے بعد معلوم ہو کہ مردے کی کچھ ہڈیاں موجود ہیں تو انہیں قبر کے ایک طرف مٹی کی آڑ بنا کر محفوظ کر دیا جائے اور اگر میت کا جسم موجود ہو تو اس قبر میں دوسری میت کو دفن نہ کیا جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر والد کا جسم مٹی ہوچکا ہے تو بیٹے کو اس قبر میں دفن کرسکتے ہیں، ورنہ نہیں ،تاہم بلا ضرورت اس سے اجتناب کیا جائے ۔
*الهندية:(166/1،ط: دارالفكر)*
ولا يدفن اثنان أو ثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة فيوضع الرجل مما يلي القبلة ثم خلفه الغلام ثم خلفه الخنثى ثم خلفه المرأة ويجعل بين كل ميتين حاجز من التراب.
*البحر الرائق:(209/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ولا يدفن اثنان وثلاثة في قبر واحد إلا عند الحاجة يوضع الرجل مما يلي القبلة ثم خلفه الغلام ثم خلفه الخنثى ثم خلفه المرأة ويجعل بين كل ميتين حاجزا من التراب ليصير في حكم قبرين هكذا «أمر النبي - ﷺ - في شهداء أحد وقال قدموا أكثرهم قرآنا» اهـ.
*حاشية الطحطاوي:(613/1،ط:دار الكتب العلمية)*
وسئل أبو بكر الأسكافي عن المرأة تقبر في قبر الرجل فقال إن كان الرجل قد بلى ولم يبق له لحم ولا عظم جاز وكذا العكس وإلا فإن كانوا لا يجدون يدا يجعلون عظام الأول في موضع وليجعلوا بينهما حاجزا بالصعيد.