وعدہ بیع اور اس کا حکم

فتوی نمبر :
1665
معاملات / مالی معاوضات /

وعدہ بیع اور اس کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
وعدہ بیع جو عام طور پر آن لائن کاروبار میں کیا جاتا ہے، اس کی مکمل وضاحت فرمادیں ۔جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جو چیز کسی کی ملکیت میں نہ ہو اس کو فروخت کرنا جائز نہیں ، البتہ بیچنے والا اگر یہ کہے کہ میرے پاس فلاں چیز اب موجود نہیں، لیکن بازار سے خرید کر آپ کو بیچ دوں گاتو یہ ”وعدہ بیع“ کہلاتا ہے اور ”وعدہ بیع“جائز ہے، شرعاً اس میں کوئی ممانعت نہیں۔
اس طرح وعدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری کرنا شرعی واخلاقی فریضہ ہے۔

حوالہ جات

*الصحيح البخاري:(2/ 751،ط: السلطانيه)*
عن ابن عمر رضي الله عنهما:
أن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ: (‌مَنِ ‌ابْتَاعَ ‌طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ). زَادَ إِسْمَاعِيلُ: (‌مَنِ ‌ابْتَاعَ ‌طَعَامًا فَلَا يبعه حتى يقبضه).

*البحر الرائق:(8/6،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وان ذكرا البيع بلا شرط ثم شرطاه على وجه المواعدة جاز البيع ولزم الوفاء وقد يلزم الوعد لحاجة الناس فرارا من الربا.

*بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(249/1،ط:دار القلم )*
ثم ذكر الشرط على وجه المواعدة جاز البيع ويلزمه الوفاء بالوعد لأن المواعدة قد تكون لازمة فتجعل لازمة لحاجة الناس».

*مجلة مجمع الفقه الإسلامي:652/12*
فقرار المجمع يقول: الوعد ملزم للواعد ديانة إلا لعذر، وهو - أي الوعد – ملزم قضاء إذا كان معلقًا على سبب ودخل الموعود في كلفة نتيجة الوعد، وأثر الإلزام يتحدد بصورتين: إما الوفاء بالوعد وتنفيذه. وإما بالتعويض عن الضرر الواقع فعلًا بسبب عدم الوفاء بالوعد بلاعذر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
33
فتوی نمبر 1665کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --