کوئی مسلمان محض سیر و سیاحت کی غرض سے ہندؤوں کےمندر میں جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
کسی مسلمان کا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں میں جانا خواہ محض سیر وتفریح کی غرض سے ہو، جائز نہیں۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:”میلۂ پرستش گاہِ ہنود میں عموماً مسلمانوں کا جانا اور خصوصاً علماء کا جانا اور یہ بھی نہیں کہ کوئی ضرورتِ شدیدہ دنیاوی ہی ہو، محض سیر و تماشے کے لیے، سخت ممنوع و قبیح ہے، ممانعت ایسی جگہ جانے سے دوسری آیت سے ثابت ہے: {فلاتقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين} یعنی بعد نصیحت کے قومِ ظالمین کے پاس مت بیٹھ ، یعنی کفار سے اختلاط مت کر اور حدیث میں ہے: ”من كثر سواد قوم فهو منهم“.(جو کسی جماعت کی تعداد بڑھائے اس کا شمار اُن ہی میں سے ہے) اور حدیثِ صحیح میں آیا ہے کہ قربِ قیامت میں ایک لشکر کعبہ معظمہ کے ارادہ سے چلے گا، جب قریب پہنچیں گے تو سب زمین میں دھنس جائیں گے، ازواجِ مطہرات میں سے ایک بی بی نے عرض کیا کہ یارسول اللہ اس میں تو بازاری دکان دار لوگ بھی ہوں گے کہ ارادہ لڑنے کا نہ رکھتے ہوں گے، ان کا کیا قصور ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب عام آتا ہے، اس وقت دھنس جائیں گے، پھر قیامت کے روز اپنی اپنی نیت کے موافق محشور (جمع) ہوں گے۔انتہیٰ۔پس جب یہ لوگ باوجودیکہ ضرورتِ تجارت کے سبب ان کے ساتھ شامل ہوں گے، عذابِ الٰہی سے نہ بچ سکیں گے تو جس کو یہ بھی ضرورت نہ ہو وہ کیوں کر اس غضب و عتاب سے جو مجمعِ کفار میں من اللہ نازل ہوا کرتا ہے محفوظ رہے گا“۔
*القرآن:(نسا4/140)*
وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ أَنۡ إِذَا سَمِعۡتُمۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَأُ بِهَا فَلَا تَقۡعُدُواْ مَعَهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦٓ إِنَّكُمۡ إِذٗا مِّثۡلُهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ جَامِعُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡكَٰفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا.
*تفسير القرطبي :(5/ 418،ط: دار الكتب المصرية)*
فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر، لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم، والرضا بالكفر كفر، قال الله عز وجل: (إنكم إذا مثلهم). فكل من جلس في مجلس «1» معصية ولم ينكر عليهم يكون معهم في الوزر سواء، وينبغي أن ينكر عليهم إذا تكلموا بالمعصية وعملوا بها، فإن لم يقدر على النكير عليهم فينبغي أن يقوم عنهم حتى لا يكون من أهل هذه الآية.
*تفسير القاسمي:(3/ 375 دار الكتب العلمية)*
فإن من التقوى اجتناب مجالس هؤلاء الذين يكفرون بآيات الله ويستهزئون بها.
قال الحاكم: دلت الآية على أن الراضي بالاستهزاء بالرسول والدين، كافر. لأنه تعالى قال إنكم إذا مثلهم ودلت على أن الرضا بالكفر كفر.
وقال السمرقندي: في هذه الآية دليل على أن من جلس في مجلس معصية، ولم ينكر عليهم، فيكون معهم في الوزر سواء. وينبغي أن ينكر عليهم، إذا تكلموا بالمعصية أو عملوا بها. فإن لم يقدر أن ينكر عليهم ينبغي أن يقوم عنهم حتى لا يكون من أهل هذه الآية.
*البحر الرائق :(7/ 214،ط: دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله، ولا يحلفون في بيوت عبادتهم) ؛ لأن القاضي لا يحضرها بل هو ممنوع عن ذلك كذا في الهداية، ولو قال المسلم لا يحضرها لكان أولى لما في التتارخانية يكره للمسلم الدخول في البيعة والكنيسة، وإنما يكره من حيث إنه مجمع الشياطين لا من حيث إنه ليس له حق الدخول والظاهر أنها تحريمية؛ لأنها المرادة عند إطلاقهم، وقد أفتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود.
*امداد الفتاوی: (4/270، ط: مکتبہ دارالعلوم کراچی)*