سوال یہ ہے کہ دوپہر کے وقت میں ڈیوٹی پر تھا اور ایک دوست کے پیچھے نماز پڑھتا تھا۔ تقریباً دو سال بعد معلوم ہوا کہ وہ موزوں پر مسح کیا کرتا تھا۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ میرے اس کے پیچھے پڑھی ہوئی نمازیں درست ہوئی ہیں یا نہیں؟
رہنمائی فرما کر اداء شکریہ کا موقع عطا فرمائے
ایسی جرابیں جن میں مذکورہ شرائط پائی جائیں ان پر مسح کرنا جائز ہے۔
1)جرابیں اتنی موٹی ہوں کہ ان میں سے پانی نہ چھنتا ہو۔
2)اتنی مضبوط ہوں کہ ان میں بغیر جوتے کے تین میل چلنا ممکن ہو۔
3) اتنی سخت ہوں کہ اپنی سختی کی وجہ سے پنڈلی پر خود قائم رہیں، کسی سہارے کی ضرورت نہ ہو۔
ان شرائط کے بغیر عام اونی،سوتی یا نائلون کی جرابوں پر مسح کرنا کسی بھی امام کے نزدیک جائز نہیں، ایسے امام کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ لازمی ہے ۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ مذکور امام کے پیچھے پڑھی گئی نمازوں کی قضا کریں گے ۔
*شرح معانی الآثار:(97/1،ط:عالم الكتب)*
فان كان كما قال ابو موسى والمغيره فانا نقول بذلك لانّا لا نرى باسا بالمسح على الجوربين اذا كانا صفيقين قد قال ذلك ابو يوسف ومحمد واما ابو حنيفه رحمه الله تعالى فانه كان لا يرى ذلك حتى يكونا صفيقين ويكونا مجلدين فيكونان كالخفين.
*المبسوط للسرخسى:(101/1،ط:دار المعرفة)*
قال (وأما المسح على الجوربين فإن كاناثخينين منعلين يجوز المسح عليهما) لأن مواظبة المشي سفرا بهما ممكن وإن كانا رقيقين لا يجوز المسح عليهما؛ لأنهما بمنزلة اللفافة وإن كانا ثخينين غير منعلين لا يجوز المسح عليهما عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -؛ لأن مواظبة المشي بهما سفرا غير ممكن فكانا بمنزلة الجورب الرقيق وعلى قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى يجوز المسح عليهما.
*الدر المختار:(41/1،ط:دار الكتب العلمية)*
(أو جوربيه) ولو من غزل أو شعر (الثخينين)بحيث يمشي فرسخا ويثبت على الساق بنفسه ولا يرى ما تحته ولا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الغرض.
*بدائع الصنائع:(10/1،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما المسح على الجوربين، فإن كانا مجلدين، أو منعلين، يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين، ولا منعلين، فإن كانا رقيقين يشفان الماء، لا يجوز المسح عليهما بالإجماع، وإن كانا ثخينين لا يجوز عند أبي حنيفة وعند أبي يوسف، ومحمد يجوز.وروي عن أبي حنيفة أنه رجع إلى قولهما في آخر عمره، وذلك أنه مسح على جوربيه في مرضه، ثم قال لعواده: فعلت ما كنت أمنع الناس عنه» فاستدلوا به على رجوعه.