قریب میں مسجد کے ہوتے ہوئے کمپنی میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
1589
عبادات / نماز /

قریب میں مسجد کے ہوتے ہوئے کمپنی میں نماز پڑھنا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
امید ہیں تمام احباب خیر وعافیت سے ہونگے ۔
ایک شخص کے کچھ دوست ہیں جو نماز میں انجانے میں انتہائی کوتاہی کرتے ہیں اور وہ شخص پانچ وقت کی نماز با جماعت اور انفرادی ادا کرتا ہے، اللّہ رب العالمین کی توفیق سے، وہ شخص اس کوشش میں ہے کہ جو میرے دوست ہیں ان کو نماز کا پابند بنانے میں اپنا کردار ادا کروں، دوست بہت اچھے اخلاق کے ہیں اس کی بات کا احترام بھی کرتے ہیں، مگر نماز کے سلسلے میں ان دوستوں کا کہنا ہے کہ جہاں ہم تقریباً بیھٹتے ہیں وہیں پر ان کا لنڈے کا گودام بھی ہے تو وہ سب کہتے ہیں کہ یہیں پر آپ ہمیں جماعت کروایا کریں ۔
سوال ۔
اگر وہ شخص جو بظاہر صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے اور گنا ہوں سے بچنے کی بھی کوشش کرتا ہے ۔ کیا جماعت کرواسکتا ہے ؟ نیز اگر وہاں جماعت سے نہ پڑھائیں تو پانچ افراد نماز ہی قضا کر دیتے ہیں پڑھتے ہی نہیں ۔ اگر جماعت کروائیں تو سب نماز پڑھیں گے ان شاءاللہ ۔
جہاں وہ لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی ضد کر رہے ہیں اس جگہ سے دو اطراف میں مسجد محض 2 یا 3 منٹ پیدل کی مسافت پر ہے تو اب وہ شخص کیا کرے ؟صرف نماز کی تلقین ہی کرتا رہے یا پھر با جماعت نماز پڑھائے تاکہ وہ لوگ نماز کے پابند بن جائیں آہستہ آہستہ ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مردوں کے لیے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا سب سے افضل ہے،بلا عذر گھر یا کمپنی میں جماعت سے نماز پڑھ کے مسجد کی جماعت چھوڑ نا کراہت سے خالی نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ خود بھی مسجد کی جماعت کا اہتمام کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں تاہم کمپنی میں با جماعت نماز ادا کرنے سے جماعت کی نماز کا ثواب مل جائے گا، مگر مسجد کے ثواب سے محروم ہوگی ۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(2500/1، رقم الحديث215،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا هناد، قال: حدثنا عبدة، عن عبيد الله بن عمر ، عن نافع ، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: «صلاة الجماعة تفضل على صلاةالرجل» وحده بسبع وعشرين درجة.

*الهندية:(116/1،ط: دارالفكر)*
وإن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل وكذلك في المكتوبات ولو كان الفقيه قارئا فالأفضل والأحسن يصلي بقراءة نفسه ولا يقتدي بغيره، كذا في فتاوى قاضي خان.

*الشامية:(554/1،ط: دارالفكر)*
(قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
38
فتوی نمبر 1589کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --