مفتی صاحب!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر عرب ممالک میں کوئی عورت ڈیوٹی پر ہو اور جب ہم ڈیوٹی پر آتے ہیں وہ سلام کرے تو اس کے سلام کا جواب دینا کیسا ہے؟
کسی مرد کو نامحرم جوان عورتوں کو سلام نہیں کرنا چاہیے، اگر وہ عورت خود سلام کرے تو دل ہی دل میں جواب دے دے، زبان سے جواب نہ دے اور اگر وہ عورت بوڑھی ہو تو زبان سے بھی جواب دے سکتے ہیں۔
*رد المحتار: (369/6،ط: دار الفكر*
واذا سلمت المراۃ الاجنبیۃ علی رجل ان کانت عجوزا رد الرجل علیھا السلام بلسانہ بصوت تسمع وان کانت شابۃ رد علیھا فی نفسہ وکذا الرجل اذا سلم علی امراۃ اجنبیۃ فالجواب فیہ علی العکس.
*الشامية:(618/1،ط: دارالفكر)*
رد السلام واجب إلا على من في الصلاة أو بأكل شغلا......أو شابة يخشى بها افتتان.