مفتی صاحب!
کیا ڈاکٹر کی غفلت سے انسان کی جان جا سکتی ہے، یا وہی زندگی اس کے مقدر میں تھی جو وہ جی چکا، یعنی کیا ڈاکٹر کی غلطی سے بھی کسی کی موت واقع ہو سکتی ہے؟
زندگی اور موت دونوں اللہ تعالیٰ کی قبضۂ قدرت میں ہیں، ہر انسان کی عمر اور موت کا وقت اللہ کے علم میں طے شدہ ہے، نہ ایک لمحہ آگے ہوسکتا ہے، نہ پیچھے، ہرمسلمان کا یہی یقین اور عقیدہ ہونا چاہیے، البتہ دنیا دارالاسباب ہے، یہاں ہر کام کسی سبب سے ہوتا ہے، موت اگرچہ اللہ کے حکم سے ہی آتی ہے، مگر بسا اوقات اس کا ظاہری سبب کسی انسان کی زیادتی یا کوتاہی ہوتی ہے، لہٰذا اگر کسی کی غلطی یا غفلت سے کسی کی جان ضائع ہو جائے تو شریعت کے ظاہری قانونِ اسباب کے مطابق وہ شخص شرعاً و اخلاقاً ذمہ دار ہوگا، اگرچہ موت بالآخر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی واقع ہوئی۔
*القرآن:(آل عمران:145:3)*
{وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ}.
*وأيضاً:( النحل61:16)*
فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ.
*تفسير القرطبي:(120/10،ط:دار الكتب المصرية)*
«(فإذا جاء أجلهم) أي أجل موتهم ومنتهى أعمارهم. (لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون) وقد تقدم «٣» فإن قيل: فكيف يعم بالهلاك مع أن فيهم مؤمنا ليس بظالم؟ قيل: يجعل هلاك الظالم انتقاما وجزاء، وهلاك المؤمن معوضا بثواب الآخرة.