اگر نماز میں کسی شخص سے ایک سجدہ رہ جائے (یعنی وہ ایک سجدہ نہ کرے) تو ایسی نماز کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم وضاحت کے ساتھ جواب دیں۔
نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے فرض ہیں، اگر کسی رکعت میں ایک سجدہ جان بوجھ کر یا بھول کر رہ جائے اور نماز مکمل کر لی جائے تو نماز کا اعادہ لازم ہے، البتہ اگر نماز کے دوران یاد آجائے تو فوراً چھوٹا ہوا سجدہ ادا کر کے آخر میں سجدۂ سہو کرلے، اس صورت میں نماز درست ہو جائے گی۔
*الهندية:(126/1،ط: دارالفكر)*
وفي الولوالجية الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع فرض وسنة وواجب ففي الأول أمكنه التدارك بالقضاء يقضي وإلا فسدت صلاته وفي الثاني لا تفسد؛ لأن قيامها بأركانها وقد وجدت ولا يجبر بسجدتي السهو وفي الثالث إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا، كذا التتارخانية.
*الشامية:(462/1،ط: دارالفكر)*
قال في شرح المنية حتى لو ترك سجدة من ركعة ثم تذكرها فيما بعدها من قيام أو ركوع أو سجود فإنه يقضيها ولا يقضي ما فعله قبل قضائها مما هو بعد ركعته من قيام أو ركوع أو سجود بل يلزمه سجود السهو فقط لكن اختلف في لزوم قضاء ما تذكرها فقضاها فيه.