اگر امام رکوع میں جاتے ہوئے اللہ اکبر آہستہ پڑھے اور نماز پوری ہونے کے بعد لوگ کہیں کہ نماز نہیں ہوئی، امام صاحب دوبارہ نماز پڑھا دے تو آیا جو لوگ دوسری جماعت میں شامل ہوئے تھے اور پہلی نماز میں نہیں تھے ان کی نماز ہو گئی ہے یا نہیں اور پہلی جماعت میں شامل لوگوں کی نماز کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ رکوع میں جاتے وقت اللہ اکبر جہراً کہنا سنت ہے اور سنت کے چھوٹنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پہلی جماعت کی نماز درست ہے، اس لیے امام صاحب کا دوبارہ نماز پڑھانا امام اور پہلی جماعت میں شامل لوگوں کے حق میں نفل شمار ہوگا، البتہ دوسری جماعت میں شامل لوگوں کی نماز درست نہیں ہوگی، کیونکہ دوسری جماعت والوں کی نماز فرض ہے، جبکہ امام کی نماز نفل اور (نفل پڑھنے والے) کے پیچھے فرض نماز ادا کرنے والوں کی نماز درست نہیں ہوتی، لہٰذا دوسری جماعت میں شامل لوگوں کو اپنی نماز دوبارہ ادا کرنی چاہیے۔
*فتح باب العناية: (1/ 287،ط:: دار الأرقم بن أبي الأرقم)*
ولا مفترض بمتنفل،ومفترض فرضا آخر.
*الشامية: (1/ 473،ط:دارالفكر)*
(وسننها) ترك السنةلا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف.... (وجهر الإمام بالتكبير)... (وتكبير الركوع و) كذا (الرفع منه)... (وتكبير السجود و) كذا نفس (الرفع منه).. (و) كذا (تكبيره،..لحديث «أنه عليه الصلاة والسلام كان يكبر عند كل رفع وخفض.
*الهندية: (1/ 72،ط:دارالفكر)*
[الفصل الثالث في سنن الصلاة وآدابها وكيفيتها]
(سننها) رفع اليدين للتحريمة، ونشر أصابعه، وجهر الإمام بالتكبير، والثناء، والتعوذ، والتسمية، والتأمين سرا، ووضع يمينه على يساره تحت سرته، وتكبير الركوع وتسبيحه ثلاثا، وأخذ ركبتيه بيديه، وتفريج أصابعه، وتكبير السجود والرفع، وكذا الرفع نفسه، وتسبيحه ثلاثا، ووضع يديه وركبتيه وافتراش رجله اليسرى ونصب اليمنى، والقومة، والجلسة. كذا في البحر الرائق وكذا الطمأنينة فيهما قدر تسبيحة. كذا في شرح المنية لابن أمير الحاج والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم والدعاء..