السلام علیکم
مفتی صاحب! میں چند پہلے اپنے گھر سے تقریبا تین چار گھنٹے کی مسافت پر ایک ہسپتال میں گیا تھا وہاں پر میں نے ایک بھٹی والے سے روٹی لی 60 روپے کی میرے پاس بھی کھلے پیسے نہیں تھے اور دکاندار کے پاس بھی نہیں تھے میں نے دکاندار کو کہا کہ میں ہوٹل میں کھانا کھا کر آپ کو پیسے دیتا ہوں، اس کے بعد میرے ذہن سے ہی نکل گیا جب میں پہنچا تو مجھے یاد آیا چونکہ وہ کافی دور ہے اب پتہ نہیں پھر اس گاؤں میں جانے کی ترتیب بنے گی بھی یا نہیں ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس رقم کو میں کیسے ادا کروں؟
اگر کسی شخص کے ذمہ کسی کا حق یا قرض باقی رہ جائے تو اس کو حقدار تک پہنچانا لازم ہے، اگر خود نہیں پہنچاسکتے تو کسی اور کے ذریعے سے مالک تک پہنچانے کی کوشش کریں ، لیکن اگر اس شخص تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ رقم اصل مالک کی طرف سے کسی مستحقِ زکوۃ کو صدقہ کر دیں، تاہم کسی مستحق زکوۃ کو دینے کے بعد اگرقرض خواہ تک رقم پہنچانے کی صورت بن جائے تو سائل اس کو صدقہ کرنے کی اطلاع دے دے ،اگر وہ صدقہ کی اجازت نہ دے تو سائل پر وہ رقم ادا کرنا ضروری ہوگی۔
*مجمع الأنهر:(709/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
وفي التنوير من عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله ويسقط عنه المطالبة في العقبى.
*الدر المختار:(283/4،ط: دارالفكر)*
(عليه ديون ومظالم جهل أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون (في المعقبي) مجتبى. وفي العمدة: وجد لقطة وعرفها ولم ير ربها فانتفع بها لفقره ثم أيسر يجب عليه أن يتصدق بمثله.