السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ہمارے امام صاحب وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول گئے اور رکوع میں چلے گئے، مقتدیوں نے لقمہ دیا تو وہ کھڑے ہوگئے اور دعائے قنوت پڑھنے کے بعد دوبارہ رکوع کیا۔ آخر میں انہوں نے سجدۂ سہو بھی کرلیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں وتر کی نماز درست ہوگئی یا اعادہ کرنا ضروری ہے؟
واضح رہے کہ اگر امام وتر کی آخری رکعت میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے اور رکوع کرلے تو ایسی صورت میں خود یاد آنے پر یا مقتدی کے لقمہ دینے پر واپس لوٹنا درست نہیں، بلکہ نماز کو اسی حالت میں مکمل کر کے آخر میں سجدۂ سہو کرلینا کافی ہے۔ البتہ اگر امام واپس پلٹ کر دعائے قنوت پڑھ لے اور پھر دوبارہ رکوع کر لے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی، لہٰذا جب آخر میں سجدۂ سہو کرلیا گیا تو نماز صحیح ہوگئی، اعادہ کی ضرورت نہیں۔
*الدرالمختار:(91/1،ط: دار الفكر)* ولو نسیہ ای القنوت ثم تذکرہ فی الرکوع لایقنت فیہ لفوات محلہ ولا یعود الی القیام فی الاصح لان فیہ رفض الفرض للواجب *رد المحتار:(84/2 ،ط: دار الفكر)* کما لو سها عن القنو ت فرکع فإنه لو عاد وقنت لاتفسد صلاته علی الأصحّ. *بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (1/ 164 ،ط: دار الكتب العلمية)* وكذا إذا ركع في موضع السجود أو سجد في موضع الركوع أو ركع ركوعين أو سجد ثلاث سجدات لوجود تغيير الفرض عن محله أو تأخير الواجب. وإن استقام قائماً لایعود لاشتغاله بفرض القیام وسجد للسهو لترك الواجب فلوعاد إلی القعود بعد ذلك تفسد صلوته لرفض الفرض لِما لیس بفرض وصححه الزیلعي وقیل: لاتفسد لکنه یکون مسیئاً ویسجد لتأخیر الواجب وهو الأشبه کما حققه الکمال وهو الحق.