مفتی صاحب میں ایک گاڑی قسطوں پر خریدنا چاہتا ہوں۔ ایک شخص کہتا ہے کہ وہ گاڑی نقد خرید لے گا، پھر وہی گاڑی مجھے ماہانہ قسطوں پر زیادہ قیمت کے ساتھ فروخت کرے گا۔ اگر سودا طے نہ ہو تو وہ گاڑی خود اپنے پاس رکھے گا، اور اگر طے ہوجائے تو وہ گاڑی میرے لیے نقد خرید کر قسطوں پر مجھے بیچ دے گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ صورت شرعاً جائز ہے یا اس میں سود (ربا) کا شبہ ہے؟
پوچھی گئی صورت میں اگر وہ شخص واقعی گاڑی اپنے نام پر نقد خرید کر اپنی ملکیت و قبضہ میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد وہی گاڑی آپ کو قسطوں پر زیادہ قیمت کے ساتھ فروخت کرتا ہے تو ایسی بیع شرعاً جائز ہے۔ البتہ درج ذیل شرائط کا لحاظ ضروری ہے: (1) گاڑی پہلے اس شخص کی ملکیت و قبضہ میں آجائے، اس کے بعد ہی آپ کو فروخت کرے۔ (2) ایک وقت میں دو قیمتیں طے نہ ہوں، بلکہ بیع کے وقت قسطوں والی قیمت حتمی طور پر طے کی جائے۔ (3) تاخیرِ ادائیگی پر اضافی رقم یا جرمانے کی شرط نہ لگائی جائے۔ (4) معاملہ بیع کی بنیاد پر ہو، قرض یا سود کے عنوان سے نہ ہو۔ اگر یہ شرائط پوری ہوں تو یہ طریقہ شرعاً درست اور سود سے پاک ہے۔ لیکن اگر بیچنے والا محض کاغذی طور پر گاڑی خریدے اور ملکیت و قبضہ حاصل کیے بغیر آگے فروخت کرے،یا تاخیر پر اضافی رقم وصول کرے تو ایسا معاملہ حرام ہوگا۔
*سنن الترمذي:(513/2 ، رقم الحديث:1231، ط:دارالغرب الاسلامي)* حدثنا هناد، قال: حدثنا عبدة بن سليمان ، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة ، عن أبي هريرة قال: «نهى رسول الله ﷺ عن بيعتين» في بيعة. "وقد فَسَّر بعض أہل العلم قالوا بیعتین في بیعة أن یقول: أبیعُک ہذا الثوب بنقد بعشرة وبنسیئة بعشرین، ولا یفارقہ علی أحد البیعتین فإذا فارقہ علی أحدہما، فلا بأس إذا کانت العقدة علی أحد منہما"․ *المبسوط للسرخسی: (13/8، ط: دار المعرفة)* "وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا، فہو فاسد،وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا، حتی قاطَعہ علی ثمن معلوم، وأتما العقد علیہ جاز". *شرح المجلة: (رقم المادۃ:245 :227/1 ط:دار الجيل)* البیعُ مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح. *بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة: (12/1، ط: دار العلوم کراتشی)* أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد.