بیعانہ کا حکم

فتوی نمبر :
1379
معاملات / مالی معاوضات /

بیعانہ کا حکم

(1) اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ گاڑی، پلاٹ یا کسی چیز کا کاروبار کرے اور بیع کے وقت بیعانہ دے دے، پھر بعد میں کسی وجہ سے معاملہ طے نہ ہو سکے تو کیا بیعانہ واپس کرنا ضروری ہے؟ اگر نہ کرے تو کیا گناہگار ہوگا؟
(2) ایک شخص نے پلاٹ کا معاملہ طے کرتے وقت دوسرے کو بیعانہ (مثلاً بیس ہزار روپے) دیا اور شرط یہ رکھی کہ اگر میں نے ادائیگی مکمل کرنے سے پہلے معاہدہ ختم کر دیا تو میرا بیعانہ ضبط ہو جائے گا۔ بعد میں اس نے باقی رقم ادا نہ کی اور معاملہ ختم ہو گیا۔ اب وہ شخص کہتا ہے کہ بیعانہ واپس کرو تو اس صورت میں بیعانہ واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟ اور اگر واپس کیا جائے تو موجودہ کرنسی کے حساب سے دینا ہوگا یا جتنی رقم اس وقت دی تھی وہی لوٹانا کافی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی چیز کو خریدتے وقت بطورِ بیعانہ کچھ رقم دینا یا لینا جائز ہے، البتہ اگر سودا منسوخ ہو جائے تو بیعانہ کے طور پر دی گئی رقم واپس کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ رقم خریدی جانے والی چیز کی قیمت کا حصہ ہوتی ہے۔
پوچھی گئی صورت میں پلاٹ کا معاملہ طے کرتے وقت بیعانہ ضبط کرنے کی جو شرط رکھی گئی ہے، وہ شرط فاسد ہے، اس شرط کا کوئی اعتبار نہیں، لہذا جب سودا منسوخ ہو گیا ہے تو بیعانہ کی رقم جتنی دی گئی تھی، اس کا واپس کرنا ضروری ہے۔

حوالہ جات

*موطأ مالك : (رقم الحدیث:2470،ط: مؤسسة الرسالة)*
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيع ‌العربان.

*حجة الله البالغة: (2/ 167،ط:دارالجیل)*
وَنهى ‌عَن ‌بيع ‌العربان أَن يقدم إِلَيْهِ شَيْء من الثّمن، فَإِن اشْترى حسب من الثّمن، وَإِلَّا فَهُوَ لَهُ مجَّانا وَفِيه معنى الميسر.

*العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 279،ط:دارالمعرفة)*
(‌سئل) ‌في ‌رجل ‌استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟
(الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها كما صرح به في المنح في فصل القرض مستمدا من مجمع الفتاوى.

*فقه البیوع: (113/1، ط: مکتبہ معارف القرآن)*
العربون والعربان : بیع فسرہ ابن منظور بقولہ:" ھو ان یشتری السلعۃ ویدفع الی صاحبھا شیئا یلی انہ ان امضی البیع جائز حسب من الثمن، وان یمض البیع، کان لصاحب السلعۃ، ولم یرتجعہ المشتری.واختلف الفقہاء فی جواز العربون: فقال الحنفیۃ والمالکیۃ واشافعیۃ وابو الخطاب من الحنابلۃ : انہ غیر جائز".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
29
فتوی نمبر 1379کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --