کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میڈیسن (دوائیاں ) بنانے والی کمپنیاں جو دوائیاں بطور نمونہ ڈاکٹر حضرات کو مفت دیتی ہیں ، ڈاکٹرز کے لیے ان کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
کمپنی جو دوائی ڈاکٹر کو بطو ر نمونہ دیتی ہے وہ ڈاکٹر کی ملکیت ہوتی ہے ، لہذا اگر کوئی ڈاکٹر ان کوقیمتا ًفروخت کرتا ہے تو یہ اس کے اختیار میں ہے اس کے لیے اس طرح فروخت کرنا جائز ہے ، تاہم جن ادویات کے اوپر صراحت کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ اس کی خرید وفروخت ممنوع ہے ،ان ادویات کو فروخت کرنا مروت کے خلاف ہے ۔
الهندية: (4/ 374، ط: دارالفكر)
وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له ... ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض .
الدرالمختار : (5/ 688، ط: دارالفكر)
(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) ... وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح) .
البحر الرائق : (7/ 284، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله وتصح بإيجاب كقوله وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام) لأنها صريحة فيها أطلقها فشمل ما إذا كان على وجه المزاح فإن الهبة صحيحة كذا في الخلاصة وشمل ما إذا أضاف الهبة إلى جزء يعبر به عن الكل كما إذا قال وهبت لك فرجها كان هبة كذا في الخلاصة.