دوائیوں کے سیمپل کی خرید وفروخت کا حکم

فتوی نمبر :
1322
معاملات / مالی معاوضات /

دوائیوں کے سیمپل کی خرید وفروخت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میڈیسن (دوائیاں ) بنانے والی کمپنیاں جو دوائیاں بطور نمونہ ڈاکٹر حضرات کو مفت دیتی ہیں ، ڈاکٹرز کے لیے ان کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کمپنی جو دوائی ڈاکٹر کو بطو ر نمونہ دیتی ہے وہ ڈاکٹر کی ملکیت ہوتی ہے ، لہذا اگر کوئی ڈاکٹر ان کوقیمتا ًفروخت کرتا ہے تو یہ اس کے اختیار میں ہے اس کے لیے اس طرح فروخت کرنا جائز ہے ، تاہم جن ادویات کے اوپر صراحت کے ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ اس کی خرید وفروخت ممنوع ہے ،ان ادویات کو فروخت کرنا مروت کے خلاف ہے ۔

حوالہ جات

الهندية: (4/ 374، ط: دارالفكر)
وأما ركنها ‌فقول ‌الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له ... ومنها أن يكون ‌الموهوب ‌مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض .

الدرالمختار : (5/ 688، ط: دارالفكر)
(وحكمها ‌ثبوت ‌الملك ‌للموهوب له غير لازم) ... وتصح بإيجاب ك وهبت ونحلت وأطعمتك هذا الطعام ولو) ذلك (على وجه المزاح) .

البحر الرائق : (7/ 284، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله وتصح بإيجاب كقوله ‌وهبت ‌ونحلت وأطعمتك هذا الطعام) لأنها صريحة فيها أطلقها فشمل ما إذا كان على وجه المزاح فإن الهبة صحيحة كذا في الخلاصة وشمل ما إذا أضاف الهبة إلى جزء يعبر به عن الكل كما إذا قال وهبت لك فرجها كان هبة كذا في الخلاصة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 1322کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --