مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت میں چیز فروخت کرنا

فتوی نمبر :
1310
معاملات / مالی معاوضات /

مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت میں چیز فروخت کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل آٹے کی قیمت بڑھتی اور گھٹتی رہتی ہے؟
مثال کے طور پر، دوکاندار آٹا تین ہزار روپے میں خریدتا ہے، دو دن بعد ریٹ بڑھ کر چار ہزار تک پہنچ جاتا ہے تو دوکاندار بھی آگے چار ہزار میں فروخت کرتا ہے۔لیکن اگر اچانک مارکیٹ میں ریٹ کم ہو جائے، مثلاً تین ہزار سے کم ہو کر پچیس سو پر آ جائے، تو دوکاندار پھر بھی تین ہزار کے ریٹ سے آگے فروخت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارا نقصان ہے۔
تو کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت میں منافع کی کوئی مخصوص حد مقرر نہیں کی گئی، تاجر جتنا چاہے نفع کما سکتا ہے، بشرطیکہ دھوکا، فریب یا ذخیرہ اندوزی نہ ہو،لہذا پوچھی گئی صورت میں آٹا مارکیٹ ریٹ سے مہنگا فروخت کرنا جائز ہے،بشرطیکہ اگر فروخت کنندہ اور خریدار نےباہمی رضامندی سے قیمت طے کی ہو ،تاہم مناسب یہ ہے کہ بازار کے عام نرخ سے زیادہ قیمت نہ رکهی جائے ۔

حوالہ جات

*بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(13/1،ط:دار القلم)*
وللبائع أن يبيع بضاعته بما شاء من ثمن، ولا يجب عليه أن يبيعها بسعر السوق دائما، وللتجار ملاحظ مختلفة في تعيين الأثمان وتقديرها فربما
تختلف أثمان البضاعة الواحدة باختلاف الأحوال، ولا يمنع الشرع من أن يبيع المرء سلعته بثمن في حالة، وبثمن آخر في حالة أخرى.

*البناية شرح الهداية:(218/12،ط:دار الكتب العلمية)*
ولأن الثمن حق العاقد فإليه تقديره، فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا تعلق به دفع ضرر العامة) ش: بأن يتعدى المعتاد تعديا فاحشا يبيع ما يساوي خمسين بمائة فحينئذ يمنع منه دفعا للضرر عن المسلمين، وأما المتعارف فليس به بأس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
53
فتوی نمبر 1310کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --