میری اپنی کرین بھی ہے، جسے جب کسی کو ضرورت ہوتی ہے تو کام کے لیے بلا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر لوگوں کی کرینیں بھی ایک مخصوص جگہ پر کھڑی رہتی ہیں ، جہاں سے لوگ کام کے لیے گاڑیاں منگواتے ہیں۔
ایک کلائنٹ نے مجھے فون کیا اور کہا " : فلاں جگہ پر کام ہے، کتنے پیسے لوگے ؟ " میں نے جواب دیا : "چالیس ہزار روپے۔ " اس نے یہ بات منظور کرلی۔ چونکہ میرے پہلے سے کرین مالکان کے ساتھ تعلقات ہیں، میں نے ایک دوسرے کرین والے سے کہا : یہ کام ہے، آپ کتنے پیسے لیں گے؟ " اس نے جواب دیا " : بیس ہزار روپے ۔ " میں نے کہا" : ٹھیک ہے، آپ یہ کام کر لیں۔ "
میں نے کلائنٹ کو یہ وضاحت نہیں دی کہ میں خود نہیں آرہا بلکہ کسی اور کو بھیج رہا ہوں، کیونکہ میرے خیال میں کلائنٹ کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں خود آؤں یا اپنے کسی بندے کو بھیج دوں۔
جب کرین والا موقع پر گیا اور اس نے کام مکمل کر لیا تو میں نے کلائنٹ کو فون کر کے کہا : آپ نے چالیس ہزار روپے ادا کرنے ہیں۔ " اس پر کرین والا کچھ ناراض ہوا اور کہنے لگا " : آپ ہم سے بیس ہزار پر کام لے رہے ہیں اور کلائنٹ سے چالیس ہزار وصول کر رہے ہیں۔ "کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں کلائنٹ سے برا اور است اکاؤنٹ میں پیسے منگواتا ہوں، جس کی اطلاع کرین والے کو کچھ دنوں بعد ہوتی ہے۔
1. چونکہ کرین کا بندہ بروکر نہیں ہے اور نہ ہی اس کا یہ با قاعدہ کام ہے، بلکہ کبھی کبھار اس طرح کا معاملہ کر لیتا ہے، تو کیا اس کے لیے اس طرح کرنا اور اپنی اجرت رکھنا درست ہے ؟
2. کرین والے کا یہ اعتراض کہ " : آپ نے ہم سے بیس پر لیا اور کلائنٹ کو چالیس پر دیا، یہ ظلم ہے ۔ " کیا یہ اعتراض شرعاً درست ہے ؟
(1) پہلی صورت میں کرین والے کا لوگوں سے کام پکڑنا اور دوسروں سے کم قیمت پر کروانا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(2) عرف سے کم اجرت دینا مناسب نہیں، بہتر یہ ہے کہ آپ جس سے کام کروائیں اس سے عرف کے مطابق اجرت طے کریں،لہذا اگر آپ عرف کے مطابق اجرت دے رہے ہیں تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے ۔
*بدائع الصنائع: (208/4،ط: دارالفکر)*
’’وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه، إلا إذا شرط عليه عمله بنفسه؛ لأن العقد وقع على عمل من شخص معين، والتعيين مفيد؛ لأن العمال متفاوتون في العمل فيتعين فلا يجوز تسليمها من شخص آخر من غير رضا المستأجر‘‘.
*مجمع الأنهر:(2/ 374، ط:دار إحياء التراث العربي)*
"وإذا أطلق) المستأجر (العمل للصانع) ولم يقيد بعمله (فله أن يستعمل غيره) كما إذا أمر أن يخيط هذا الثوب بدرهم، فاللازم عليه العمل سواء أوفاه بنفسه أو باستعانة غيره كالمأمور بقضاء الدين".
*البناية شرح الهداية:(10/ 244، ط:دار الكتب العلمية)*
(وإن أطلق له العمل) ش: مثل أن يقول: خطْ هذا الثوب أو اصنعه. م: (فله أن يستأجر من يعمله؛ لأن المستحق عمل في ذمته ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره) ش: لأن المقصود هو العمل وقد حصل. م: (بمنزلة إيفاء الدين). ش: فإن الإيفاء يحصل بالمديون وبالتبرع من غيره".
*درر الحکام شرح مجلة الأحكام : (573/3، رقم المادة(1463)، ط: دارالجيل)*
" إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة، أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة".